پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مالی اور دیگر شعبوں میں مدد فراہم کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اڑان پاکستان کی بہترین ورکشاپ کا انعقاد کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ سازی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان تمام صوبوں کے لیے ہے جس سے نوجوانوں کو نئی راہیں اور بہترین وسائل فراہم ہوں گے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مالی اور دیگر شعبوں میں مدد فراہم کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اڑان پاکستان کی بہترین ورکشاپ کا انعقاد کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

وفاقی وزیر کہنا تھا کہ آئے روز آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، وفاقی حکومت ہیپاٹائٹس اور دیگر جاں لیوا امراض کی تشخیص اور ادویات کی فراہمی کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کی مدد کررہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی بہتر معاشی پالیسوں کی وجہ سے افراط زر کی شرح 38 فیصد سے 4 فیصد پر آگئی ہے جبکہ شرح سود 23 سے 12 فیصد پر آگئی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت احسن اقبال

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ