جب اقتدار میں آئے تو خزانے میں 15 دن کی تنخواہ تھی اور اب 150 ارب سرپلس موجود ہیں، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں اس طرح کی کارکردگی کی مثال نہیں ملتی، ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا اور نہ موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا، اس کے باوجود ہم نے صوبے کی آمدن میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ جب ہم کے پی میں اقتدار میں آئے تو خزانے میں 15 دن کی تنخواہ پڑی تھی اور اب 150 ارب روپے سرپلس موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 27 واں اجلاس منعقد ہوا۔ صوبائی کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبائی حکومت نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے، جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت خزانے میں صرف 15 دن کی تنخواہ کے پیسے باقی تھے،اب خزانے میں 150 ارب روپے سے زائد کا سرپلس پڑا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں اس طرح کی کارکردگی کی مثال نہیں ملتی، ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا اور نہ موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا، اس کے باوجود ہم نے صوبے کی آمدن میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا، ہم اقتدار میں آئے تو صحت کارڈ بند ہوچکا تھا، ہم نے نہ صرف اس اسکیم کو بحال کیا بلکہ ریٹس میں 30 فیصد کا اضافہ بھی کیا، صحت کارڈ میں اصلاحات اور شفافیت کے ذریعے ہم ماہانہ 90 کروڑ سے ایک ارب کی بچت کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم جب حکومت میں آئے تو 87 ارب روپے کے بقایاجات تھے جو ہم نے ختم کردیئے، ہم نے قرض اتارنے کے لئے 30 ارب روپے کی لاگت سے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کردیا،ہم نے احساس پروگرام کے تحت عوامی فلاح و بہبود کی مختلف اسکیمیں شروع کی ہیں، صوبے میں صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کے لئے 18 ارب روپے کی لاگت سے ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سولرائزیشن کا فلیگ شپ منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت گھروں، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز، ٹیوب ویلز وغیرہ کو سولر سسٹم پر منتقل کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب سے ہم اقتدار میں آئے ہیں، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوئی، پچھلے ایک سال کے دوراں ہم نے کوئی قرضہ نہیں لیا اور نہ ہم پر کوئی بقایاجات بنے، ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز جاری کرنے کے علاوہ ہم اب 30 ارب روپے کے مزید فنڈز جاری کر رہے ہیں، یہ سب ہم نے دستیاب وسائل کے بہتر استعمال اور شفافیت کے ذریعے ممکن بنایا، صوبے میں پوسٹنگ ٹرانسفرز پالیسی کے تحت میرٹ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں، اس میں کوئی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اضافہ کیا نے کہا کہ ارب روپے علی امین صوبے کی
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔