ٹرین حملہ: وزیر دفاع کو ذرا سی بھی شرم ہوتی تو آج استعفی دے دیتے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ وزیر دفاع کو ذرا سی شرم ہوتی تو آج سانحہ جعفر ایکسپریس کی وجہ سے استعفی دے دیتے۔
سانحہ جعفر ایکسپریس پر قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ جعفر ایکسپریس سانحہ پر افسوس اور مذمت کرتے ہیں، خواجہ آصف نے جعفر ایکسپریس پر ایوان کو اعتماد میں لینے کے بجائے پی ٹی آئی پر الزام عائد کردیا، پی ٹی آئی ان کے اعصاب پر سوار ہے، تقریر نکال لیں کتنی مرتبہ بلوچستان کو نام لیا، وزیر دفاع کو ذرا سی شرم ہوتی تو آج استعفی دے دیتے۔
انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہم اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، مگر عوامی مینڈیٹ والوں کو جیلوں میں رکھا جائے اور جعلی مینڈیٹ والے ایوان میں ہوں تو ملک کیسے چلے گا؟ یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتی، پی ٹی آئی سمجھتی ہے یہ تمام مسائل جعلی مینڈیٹ کی وجہ سے ہیں، ملک میں نہ کوئی آئین رہا نہ کسی ادارے کی کوئی عزت ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے، یہ سب کچھ خواجہ آصف کی نااہلی کی وجہ سے ہورہا ہے، ہم اپنے اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ہم حقیقی عوامی نمائندوں کی پارلیمنٹ کو سپریم دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہاں خفیہ ادارے ایک جماعت کو مٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ آپ نے قیدی نمبر 804 کو غیرقانونی طور پر جیل میں رکھا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،
لیول پلینگ فیلڈ دیں حکومت میں بیٹھی تمام جماعت ایک ہوجائے پی ٹی مقابلہ کرے گی اور جیتے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن ہورہا ہے، ہم قانونی نہیں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف ہیں، پہلے سے حالت جنگ میں ہیں نیا ایشو نہ کھولا جائے، ہم مضبوط پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ آئین کے اندر اپنی حدود میں ہر ادارہ اپنا کردار ادا کرے، خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، بلوچستان، سندھ پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :