اسلام آباد(اوصاف نیوز)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کے تبادلوں کا فیصلہ چیلنج کردیا۔ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی
درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں تین ججوں کا تبادلہ چیلنج کردیا گیا۔ درخواست میں وفاقی حکومت، لاہور، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے رجسٹرارکو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تین ججوں کا اسلام آباد ہائیکورٹ تبادلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت الجہاد ٹرسٹ کیس کے تناظر میں شفافیت یقینی بنانے کا حکم دے، عدالت قرار دے کہ آرٹیکل 200 کا استعمال مفصل مشاورت سے ہی ممکن ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے پہلےسے موجود ججز کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں نے میرے خلاف مقدمات میرٹ پرنمٹائے تھے۔بانی پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر حلف اٹھائے ایک جج کو لا کر قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا، یہ سارے طریقےعدلیہ کی آزادی ختم کرنے کیلئے آزمائے جا رہے ہیں۔
چین اور امریکہ کا جنگی معرکہ بلوچستان اور پختونخوا کی سرزمین پر لڑنے کی تیاریاں ہوچکی ہیں، ایمل ولی خان

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ بانی پی ٹی

پڑھیں:

پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی

سٹی 42 : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ 

آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ 

آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ 

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ