ٹرمپ تنقید کرنے والے چینلز، اداروں پر پھٹ پڑے، بدعنوان قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کرنے والے چینلز اور میڈیا کو کرپٹ قرار دے دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مختلف چینلز اور میڈیا کے ادارے میرے بارے میں 97 فیصد برا لکھتے ہیں۔ امریکی میڈیا ججوں پر اثر انداز ہو کر قانون تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ میڈیا کے غیرقانونی کردار کو روکنا ہوگا۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ 2020 کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے۔ جو لوگ الیکشن کے دوران دھاندلی میں ملوث تھے انہیں جیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کو رہا کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ نے تقریر کے دوران کہا کہ غلط کام کرنے اور فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے۔ انہوں نے ایف بی آئی سمیت دیگر اداروں میں موجود کچھ افراد کے نام لے کر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جو بائیڈن پرتنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے محکمہ انصاف کوبڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کرکے کے اسے جسٹس ڈپارٹمنٹ سے ان جسٹس ڈپارٹمنٹ میں تبدیل کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس سے اچھی خبریں آ رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ روس یوکرین جنگ پر ڈیل کر لے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔