منگیتر کا اپنی والدہ کے ساتھ مل کر گھر خریدنے پر دُلہن کا شادی سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
امریکا میں ایک 28 سالہ خاتون نے اپنی شادی اس وقت منسوخ کر دی جب اسے معلوم ہوا کہ اسے کے منگیتر نے اپنی ماں کے ساتھ خفیہ طور پر ایک گھر خرید لیا ہے۔
خاتون نے منگیتر کی اس حرکت کو سوشل ویب سائٹ reddit پر ایک سرخ بتی کے طور پر بیان کیا۔
خاتون نے کہا کہ وہ اور اس کا منگیتر شادی کی تیاری کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ ان کے پاس بچت کرنے، کوئی اچھی جگہ تلاش کرنے اور اسے اپنا گھر بنانے کے بڑے منصوبے تھے اور وہ اس پر بہت بات کرتے تھے۔
خاتون نے مزید کہا کہ ہم اس موسم گرما میں اپنی شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ایک ساتھ گھر خریدنے کا فیصلہ کر رہے تھے۔ تاہم اس کے منگیتر نے اپنی ماں کے ساتھ پہلے ہی ایک گھر خرید لیا اور وہ حیران رہ گئی۔
اس نے کہا کہ میں حیران تھی کہ اس نے پہلے ہی گھر خرید لیا ہے اور میرے ساتھ نہیں بلکہ اپنی ماں کے ساتھ۔ اور اس نے مجھے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ گھر دیکھ رہا ہے۔
خاتون نے بتایا کہ اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ میرا کیا ہوگا تو اس نے کہا تم بھی ہمارے ساتھ رہو۔
خاتون نے بتایا کہ اس نے یہ بات ایسے کہی جیسے میں اس گھر میں رہنے کے لئے بہت خوش ہوں جو اس کی ماں نے خریدا ہے اور جزوی طور پر اس کی مالک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔