کرک پولیس نے دہشتگردوں کے حملے کو بہادری کے ساتھ پسپا کیا، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا کہنا ہے کہ کرک پولیس نے دہشتگردوں کے حملے کو بہادری کے ساتھ پسپا کیا، کے پی پولیس اور سیکیورٹی فورسز بہادری سے دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی واقعات میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، شہیدوں کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی لازوال داستانیں قائم ہیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کا مقابلہ عوام کے تعاون سے کر رہے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مالی مشکالات کے باوجود پولیس کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں، پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اسلحے اور دیگر ضروری آلات خریدے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو پیشہ وارانہ تربیت کے لیے نئے سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لے رہے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ 23 اور 24 جولائی 2026 کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن، 24 خوارج ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی مستعد اور دلیرانہ کارروائی کے نتیجے میں ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ جوابی کارروائی کے دوران فرار ہونے والے 12 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں ہونے والے شدید دھماکے سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوئے جن میں 12 فوجی جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری ملازم شامل ہیں۔
بیان کے مطابق شہدا نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔
مزید پڑھیے: بلوچستان: آپریشن شعبان جاری، مزید 9 خوارج ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ موجود کسی بھی دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزم استحکام کے وژن کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان دشمن گٹھ جوڑ بے نقاب، فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے روابط کے شواہد سامنے آگئے
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹانک ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ٹانک میں خوارج ہلاک ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی خیبرپختونخوا