Daily Ausaf:
2026-07-24@15:27:33 GMT

پی ٹی آئی کا مستقبل دائو پر لگ گیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT

بس کچھ نہ پوچھئے،ملک کی سیاست کا جو حال ہے اس موقع پر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ماضی بعید میں ملک کی دو بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی گرداب میں رہیںلیکن جب پانسہ پلٹا تو دونوں ہی جماعتیں دوبارہ اقتدار میں آ گئیں،جبکہ پونے چار سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)اب گرداب میں ہے،کبھی خوشی،کبھی غم کے مصداق ایسا تو ہوتا آیا ہے پاکستانی سیاست میں،یہ کونی نئی بات نہیں،کسی کا اقتدار کبھی دائمی نہیں رہا۔ اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ کبھی کسی سے وفا نہیں کرتا،جو کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ آج ہو رہا ہے،لگتا ہے تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔آپ جانتے ہیں بانی پی ٹی آئی ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں۔ اکثریت کا گمان تھا کہ خان صاحب جیل نہیں کاٹ سکیں گے کہ مصائب سہنے کے عادی نہیں،جیل کاٹتے ہوئے انہیں ضرور مشکل ہو گی مگر یہ گمان اور سب ہی قیافے غلط ثابت ہوئے۔بانی کو اگرجہ مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن اس صورت حال میں وہ حالات سے مسلسل نبرد آزما ہیں اور کسی ’’انہونی‘‘کے انتظار میں ہیں تاہم پیش آمدہ حالات و واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ کوئی ایسی انہونی ہونے والی نہیں کہ کوئی ریلیف مل سکے۔ ڈیل کے بھی آثار دور دور تک نہیں۔خواہش تو تھی،کوشش بھی بہت کی کہ اسٹبلیشمنٹ بات چیت کے لئے آمادہ ہو جائے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے جب دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ’’گفتگو‘‘درکار ہے تو سیاسی لوگوں سے کی جائے۔اسٹیبلشمنٹ سیاسی گفتگو نہیں کرتی،جس سے یہ واضح ہو گیا کہ بانی کا مشکل وقت ابھی کٹنے والا نہیں،نہ کوئی ایسی انہونی ہونے والی ہے،جو ان کی رہائی کا سبب بن سکے۔
یہ واضح رہے پی ٹی آئی ہی عمران خان ہیں اور عمران خان ہی پی ٹی آئی۔ان کے بغیر سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل ہے-اس بات کا پتہ بانی کے حریفوں کو ہی نہیں،ان کے حامیوں کو بھی ہے،ہر کوئی جانتا ہے جس دن بانی نہ رہے،پی ٹی آئی اپنا وجود کھو بیٹھے گی۔اس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا،لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی جن حالات کا سامنا کر رہی ہے اور اسے جو صورت حال درپیش ہے اس تناظر میں کیا آئندہ انتخابات تک پی ٹی آئی اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی؟ پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اسے درپیش اور لاحق خطرات کے حوالے سے بھی کافی اظہار کیا جا رہا ہے۔باخبر لوگ برملا کہہ رہے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی اور جاری چپقلش پی ٹی آئی کو مہنگی پڑی ہے جس نے اسے تنہا کر دیا ہے،پھر 9مئی کے واقعات کے نتیجے میں جس طرح کا کریک ڈان ہوا جس وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئیں اس کے اثرات سے ابھی تک پی ٹی آئی باہر نہیں نکل سکی۔خیبرپختونخوا کے سوا باقی تینوں صوبوں میں اس کے دفاتر ویران اور سنسان ہو گئے ہیں،ہو کا عالم ہے،خوف کی ایسی فضاء ہے جو بہت گھمبیر ہے۔صورت حال کے باعث کافی رہنما یا تو منظر سے غائب ہیں یا ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔جماعت میں شدید اختلافات کی بھی خبریں آ رہی ہیں۔ جماعت کے سب سے متحرک اور میڈیا پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ نظر آنے والے منتخب ایم این اے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کے بعد لفظی جنگ میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ پی ٹی آئی بلاشک و شبہ انتشار کا شکار ہے۔گروپ بندی نے اس میں ناصرف گو مگو کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے بلکہ اسے جماعتی لحاظ سے بھی کمزور کر دیا ہے۔خوف اور یاس و ناامیدی کی ایسی فضا پیدا ہو چکی ہے جو پی ٹی آئی کی صفوں میں صاف نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں عید کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے جس کے لیئے اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس تشکیل دینے کی بات ہو رہی ہے۔ تاہم سٹریٹ پاور رکھنے والی سب سے مضبوط اور اہم جماعت جمعیت علما اسلام کی اس گرینڈ الائنس میں ابھی تک شرکت مشکوک ہے۔
پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطح کے ایک وفد نے اگرچہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی قیادت میں مولانا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں گرینڈ الائنس کی غرض و غایت پر بات کی گئی۔مولانا کو دعوت دی گئی کہ جمعیت علماء اسلام اس الائنس کا حصہ بنے مگر مولانا فضل الرحمان نے اس پیشکش کا ابھی تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔اب یہ خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ جمعیت نے پی ٹی آئی قیادت کے سامنے کچھ مطالبات رکھے ہیں۔ تاہم جمعیت کے ذرائع کسی قسم کے مطالبات کی تردید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں گرینڈ الائنس میں شامل ہونے کے لئے انہوں نے کوئی شرائط نہیں رکھیں،لیکن اسلام آباد کے باخبر ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ بات چیت میں تعطل اسی وجہ سے ہے کہ جمعیت کے مطالبات پر پی ٹی آئی میں اعلیٰ سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی سے مشاورت اور اجازت کے بعد ہی پی ٹی آئی اپنے موقف سے جمعیت کو آگاہ کرے گی کہ مطالبات قابل قبول ہیں یا نہیں؟مطالبات میں دو، تین چیزیں اہم ہیں،جن کی بازگشت سنی جا رہی ہے،کہا یہ جا رہا ہے کہ جمعیت کے پی حکومت میں تین وزاتیں چاہتی ہے۔ جمعیت کو وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے بھی بہت سے تحفظات ہیں۔جمعیت والے ان کے بیانات اور رویے سے بہت شاکی ہیں۔علی امین گنڈا پور ڈیرہ اسماعیل خان کے جس حلقے سے جیت کر آئے ہیں،اس میں ری کانٹنگ کا معاملہ بھی مطالبات میں شامل ہے۔ اگرچہ کامران مرتضے واضح الفاظ میں میڈیا پر آ کر کہہ چکے ہیں کہ 2024ء کے الیکشن پر ان کے تحفظات ضرور ہیں۔ کے پی کے میں بھی وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ غلط ہے کہ ہم نے کسی قسم کے مطالبات پی ٹی آئی کے سامنے رکھے ہیں۔ جہاں تک گرینڈ الائنس میں شمولیت کا تعلق ہے تو بقول کامران مرتضے اس کا فیصلہ ان کی سیاسی کمیٹی اور مولانا فضل الرحمن کریں گے۔اپوزیشن گرینڈ الائنس اور عید کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے بہت ہی باخبر سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے نہ کوئی گرینڈ الائنس بننے جا رہا ہے، نہ عید کے بعد کسی تحریک کا آغاز ہونے والا ہے۔ واوڈا نے آج تک کی جتنی بھی پیش گوئیاں کیں، حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ہیں۔لہٰذا واوڈا کی اس تازہ ترین پیش گوئی کے متعلق بھی گمان کیا جا سکتا ہے کہ سابق پیش گوئیوں کی طرح وہ بھی درست ثابت ہو سکتی ہے۔ عید کوئی زیادہ دور نہیں۔دیکھتے ہیں عید کے بعد گرینڈ الائنس اور پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا کیا بنتا ہے؟بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے بس چند دنوں کی بات ہے سب پر سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ہر ایک سوال کا جواب بھی مل جائے گا۔فی الوقت بانی پی ٹی آئی اڈیالہ سے باہر آتے دکھائی نہیں دے رہے۔26نومبر کو ڈی چوک والی تحریک کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کی آخری امید صدر ٹرمپ تھے۔کہا جا رہا تھا امریکی کانگریس میں موجود پی ٹی آئی کی حمایتی لابی بالآخر ٹرمپ کو مجبور کر دے گی کہ جیل سے بانی کی رہائی کے لئے وہ کوئی راست اقدام اٹھائیں۔ ٹرمپ کے حلف کا انتظار تھا۔فروری میں یہ حلف بھی ہو گیا لیکن عمران خان کے حق میں ٹرمپ کا ایک بیان بھی نہیں آیا۔اب تک کوئی ایسے آثار نظر نہیں آتے کہ ٹرمپ بانی کی رہائی کے لئے کوئی کردار ادا کریں گے۔اس لئے رہائی والا باب اب بند سمجھیں۔ فیصلہ بالآخر پاکستانی عدالتوں نے ہی کرنا ہے جہاں بانی کے مقدمات زیر سماعت ہیں، یا چالان اور ٹرائل کے منتظر ہیں۔ان میں 9مئی بھی شامل ہے،جو بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔دیکھیں بانی کی قسمت کا ستارہ چمکتا ہے یا گردش میں ہی رہتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گرینڈ الائنس پی ٹی آئی کی پی ٹی آئی کے عید کے بعد جا رہا ہے صورت حال کہ جمعیت رہے ہیں ثابت ہو ہیں کہ کے لئے سے بھی رہی ہے

پڑھیں:

اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟

انٹرنیٹ کی دنیا میں بعض اوقات بہت دلچسپ پہیلیاں سامنے آجاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک وائرل پہیلی ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آپ کس قدر ذہین ہیں۔

جی ہاں! ذہانت رکھنے والے افراد ہی اس پہیلی کو حل کرسکتے ہیں۔ آپ کو صرف دی گئی ہدایات کو حل کرتے ہوئے درست کوڈ بتانا ہے۔

کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ لاکر کھولنے کےلیے کون سے تین نمبر درست پوزیشن کے ساتھ دیئے جائیں گے؟

تصویر میں اشارے بھی دیئے گئے ہیں جس کی مدد سے آپ یہ پہیلی حل کرسکتے ہیں۔ جیسے نیچے دیئے باکس میں ہدایت لکھی گئی ہے کہ 206 عدد میں سے دو اعداد درست تو ہیں لیکن وہ ترتیب کے لحاظ سے غلط جگہ پر رکھے گئے ہیں، یعنی اب آپ کو اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ ان تین نمبرز میں سے دو درست نمبر کون سے ہیں اور ان کی درست ترتیب کیا ہوگی۔ 

یہ درست ترتیب آپ دیگر باکسز میں دی گئی ہدایات سے باآسانی معلوم کرسکتے ہیں۔ تو پھر جلد معلوم کیجئے اور ہمیں اپنا جواب بتایئے۔

اگر آپ درست اعداد اور درست ترتیب جاننے میں ناکام رہے ہیں تو ہم اس کا تفصیلی جواب بھی بتادیں گے لیکن پہلے آپ خود کوشش کیجئے۔

اس پہیلی کا درست جواب نیچے درج ہے، اور جواب کی وضاحت بھی موجود ہے۔

تمام ہدایات کو غور سے دیکھیے۔
 
738 (کوئی عدد درست نہیں):
​اس سے معلوم ہوا کہ 7، 3 اور 8 میں سے کوئی بھی کوڈ کا حصہ نہیں ہے۔

780 (ایک عدد درست مگر غلط جگہ پر ہے):
​چونکہ 7 اور 8 غلط ہیں، اس لیے درست عدد 0 ہے۔
​0 آخری (تیسری) جگہ پر نہیں ہو سکتا۔

682 (ایک عدد درست اور صحیح جگہ پر ہے) اور 614 (ایک عدد درست مگر غلط جگہ پر ہے):
​اگر 6 درست ہوتا تو دونوں جگہ (پہلے نمبر پر) صحیح ہونا چاہیے تھا، لیکن اشارے متضاد ہیں، اس لیے 6 غلط ہے۔
​چونکہ 8 اور 6 غلط ہیں، اس لیے 682 میں سے 2 درست عدد ہے اور اپنی صحیح جگہ یعنی تیسرے نمبر پر [ 2 ][ _ ][ _ ] ہے۔

206 (دو عدد درست مگر دونوں غلط جگہ پر ہیں):
​6 غلط ہے، اس لیے 2 اور 0 درست اعداد ہیں۔
​0 دوسرے نمبر پر نہیں آ سکتا (کیونکہ یہاں وہ غلط جگہ پر ہے) اور تیسرے نمبر پر پہلے ہی 2 موجود ہے۔
​لہذا 0 پہلے نمبر پر [ 2 ][ _ ][ 0 ] آئے گا۔

​614 (ایک عدد درست مگر غلط جگہ پر ہے):
​6 غلط ہے اور 1 دوسرے نمبر پر نہیں آ سکتا (کیونکہ وہ غلط جگہ بتائی گئی ہے)، اس لیے درست عدد 4 ہے۔
​4 درمیان میں آئے گا۔
​حتمی کوڈ: 042
یعنی اس پہیلی کا درست کوڈ 042 ہے۔ 

 

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا