امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخلے کی شرح میں 95 فیصد کمی آ گئی ہے. جے ڈی وینس
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 مارچ ۔2025 ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخلے کی شرح میں 95 فی صد کمی آ گئی ہے پہلے یومیہ 1500 افراد غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخلے کی کوشش کرتے تھے اب یہ تعداد 30 رہ گئی ہے. امریکی نشریاتی ادارے ”فاکس نیوز“ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخلے کا راستہ روکنے کے بعد اگلا مرحلہ ڈی پورٹیشن ہے اور ہر آنے والے دن میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کو واپس بھیجنے کے اقدامات میں اضافہ ہو گا.
(جاری ہے)
نائب صدر نے کہاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو چاہیے کہ وہ خود ہی امریکہ چھوڑ دیں ہمیں آنے کی ضرورت نہیں کہ ہم آئیں اور کہیں کہ اپنے ملک واپس جائیں ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایسا بھی کریں گے کولمبیا یونیورسٹی کے طالبِ علم اور فلسطینی کارکن محمود خلیل کی گرفتاری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں نائب صدر کا کہنا تھا کہ گرین کارڈ رکھنے والے افراد کو غیر معینہ مدت تک کے لیے امریکہ میں رہنے کا حق نہیں ہے. چند روز قبل امریکہ کے وفاقی امیگریشن حکام نے کولمبیا یونیورسٹی میں اسرائیل مخالف مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کرنے والے فلسطینی طالب علم کو گرفتار کرلیا تھا خلیل گرین کارڈ ہولڈر تھے نائب صدر کا کہنا تھا کہ گرین کارڈ ہولڈرز یا اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ آنے والوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو ایک امریکی شہری کو حاصل ہیں. جے ڈی وینس نے کہاکہ یہ اظہاررائے کی آزادی کا نہیں بلکہ امریکی قومی سلامتی کا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ یا وزیر خارجہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو امریکہ میں نہیں ہونا چاہیے تو ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جے ڈی وینس پر امریکہ
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔