Jang News:
2026-07-24@13:07:19 GMT

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج ہوگا

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج ہوگا، جس میں عسکری قیادت موجودہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر طلب کیا گیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور حکومت کے رابطے پر پاکستان تحریک انصاف نے بھی ان کیمرا اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی آئی نے اجلاس میں شرکت کےلیے 14 نام اسپیکر کو بھجوا دیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 14 نام اسپیکر قومی اسمبلی کو دے دیے ہیں، ان ناموں میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور زرتاج گل شامل ہیں۔ 

صاحبزادہ حامد رضا، عامر ڈوگر، ثناء اللّٰہ مستی خیل، علی محمد خان، علی ظفر، سینیٹر ہمایوں مہمند اور عون عباس بپی و دیگر شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کے قومی سلامتی سیشن سے پہلے بانی سے ملاقات کروانے کا مطالبہ

چیف وہب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق اور وزراء نے متعلقہ افراد سے رابطے اور ملاقات کا یقین دلایا، بانی پی ٹی آئی کی سپورٹ کے بغیر کوئی کامیاب پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس آج دن 11 بجے قومی اسمبلی ہال پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔

اجلاس میں عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد نمائندگان شرکت کریں گے، متعلقہ کابینہ اراکین بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے۔

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے احاطے میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جبکہ کل پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی تمام قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے اجلاس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی اجلاس میں

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ