پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری سرگرمیوں نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا، جہاں مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا اور مارکیٹ میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ٹریڈنگ کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس 1,19,421 پوائنٹس کی حد کو عبور کر گیا یہ اضافہ ملکی معیشت میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں اس شاندار اضافے کی ایک بڑی وجہ مثبت معاشی اشاریے بہتر حکومتی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے اس سے قبل گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر بھی مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی تھی جب ہنڈرڈ انڈیکس 972 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1,17,974 پوائنٹس پر بند ہوا تھا اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے آج کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب رہی معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافے بہتر حکومتی پالیسیوں اور معاشی استحکام کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان جاری ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو مستقبل میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ڈالر 11 پیسے سستا ہونے کے بعد 280.

21 روپے سے کم ہو کر 280.10 روپے پر آ گیا ماہرین کے مطابق، روپے کی قدر میں بہتری اور ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے درآمدات پر دباؤ کم ہوگا اور افراطِ زر میں کمی لانے میں مدد ملے گی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافے اور کرنسی کی قدر میں استحکام کو ملکی معیشت کے لیے ایک اچھا شگون قرار دیا جا رہا ہے اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا بلکہ کاروباری ماحول بھی مزید سازگار ہو جائے گا جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں معیشت کے لیے کی قدر میں

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ