آئی سی سی سے 3 گنا زیادہ، بھارتی بورڈ نے چیمپیئنز ٹرافی جیتنے پر بھارتی ٹیم کو کتنی انعامی رقم دی؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی کا اعزاز جیتنے والی بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے 58 کروڑ بھارتی روپے نقد انعام اعلان کیا ہے۔ یہ رقم آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے لیے انعامی رقم سے 3 گنا زیادہ ہے۔
بی سی سی آئی کے مطابق، یہ نقد انعام کھلاڑیوں، کوچنگ اور سپورٹ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان جن کی قیادت اجیت اگرکر کر رہے ہیں، کو دیا جائے گا۔ چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں بھارت نے روہت شرما کی قیادت میں ٹورنامنٹ میں کوئی بھی میچ نہیں ہارا تھا جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں فتح کے ساتھ تیسری بار ٹائٹل جیتا تھا۔
مزید پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی کی فاتح بھارتی کرکٹ ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملی؟
بی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ بورڈ خوشی کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں بھارت کی کامیابی کے بعد ٹیم انڈیا کو 58 کروڑ روپے (ایک ارب 88 کروڑ 21 لاکھ 70 ہزار 180 پاکستانی روپے) کا کیش انعام دیا جائے گا۔ یہ مالی اعزاز کھلاڑیوں، کوچنگ اور سپورٹ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی محنت کا پھل ہے۔
بی سی سی آئی کے صدر روجر بنّی نے کہا کہ ایک کے بعد ایک آئی سی سی ٹائٹل جیتنا خاص بات ہے اور یہ انعام ٹیم انڈیا کی عالمی سطح پر محنت اور بہترین کارکردگی کا اعتراف کرتا ہے۔ یہ نقد انعام اس محنت کا اعزاز ہے جو ہر کوئی پس پردہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی کا چیمپیئنز ٹرافی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان، کس ٹیم کے کتنے کھلاڑی شامل ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ 2025 میں ہماری دوسری آئی سی سی ٹرافی ہے۔ پہلے آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ورلڈ کپ کی ٹرافی بھارت کو ملی اور یہ کامیابیاں ہمارے ملک میں کرکٹ کے مضبوط نظام کو اجاگر کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی ٹیم کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 جیتنے پر 2.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 انعامی رقم بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا بی سی سی آئی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی چیمپیئنز ٹرافی 2025 ٹیم کو
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔