علی ظفر نے اپنی منفرد آواز میں ’قصیدہ بردہ شریف‘ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
معروف گلوکار اور فنکار علی ظفر نے ماہ رمضان میں نیا نعتیہ کلام پیش کر دیا۔
علی ظفر نے اس بار دل کو چھو لینے والے انداز میں قصیدہ بردہ شریف پیش کیا ہےاس عظیم الشان کلام کو اپنے منفرد انداز اور شاعرانہ اظہار کے ساتھ پیش کرتے ہوئے، علی ظفر نے اس کی روحانی گہرائی کو مزید اجاگر کیا۔
یہ صرف ایک نعتیہ کلام کی پیشکش نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی تجربہ ہے جو سامعین کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ایک منفرد سفر پر لے جاتا ہے۔
علی ظفر نے نہ صرف اپنی مخصوص اور پُرتاثر آواز سے اس کلام کو نیا رنگ دیا بلکہ اس کے بصری پہلو کو بھی غیرمعمولی طور پر تخلیقی اور جاذبِ نظر بنایا ہے۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد کام میں، علی ظفر نے شاعرانہ جمالیات کو سینما کی فنی مہارت کے ساتھ جوڑ کر ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جو عقیدت اور محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کو نئی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔
۔اپنے گہرے اور پُراثر کلام، دلکش انداز اور جادوئی مناظر کے امتزاج کے ساتھ، علی ظفر کا قصیدہ بردہ شریف محض ایک پیشکش نہیں بلکہ ایمان، محبت اور روحانی مسرت کا ایک سفر ہے۔
یہ کلام اب تمام بڑے پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے، جہاں سامعین روایت اور جدت کے اس بے مثال امتزاج کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، جو پہلے کبھی نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی ظفر نے
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔