لاہور، کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، یوم علیؑ کی سکیورٹی کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل نے صوبہ بھر کے امن و امان کی تازہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے یوم حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ کابینہ کمیٹی نے قیام اللیل کے دوران مساجد کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں ایس سی سی ایل او کا 25 واں اجلاس ہوا۔ صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی بھی اجلاس میں موجود تھے، جبکہ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نورالامین مینگل نے صوبہ بھر کے امن و امان کی تازہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے یوم حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ کابینہ کمیٹی نے قیام اللیل کے دوران مساجد کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کابینہ کمیٹی نے میانوالی، ڈی جی خان اور اٹک میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کی منظوری بھی دی۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ رمضان المبارک کو مذہبی عقیدت و احترام کیساتھ منا رہے ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے دن رات مستعد ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں سے مکمل کوارڈی نیشن میں ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل، ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری سلطان، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، آئی جی جیل خانہ جات، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ اور متعلقہ اداروں سے حکام نے شرکت کی۔ پنجاب بھر سے کمشنرز اور آر پی اوز نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کابینہ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ داخلہ پنجاب اجلاس میں کے دوران
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔