تونسہ: سرکاری اسکول کے گودام سے 43 ہزار سے زائد کتابیں چوری
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
— فائل فوٹو
پنجاب کے ضلع تونسہ میں سرکاری اسکول میں قائم گودام سے 43 ہزار سے زائد سرکاری کتابیں چوری کر لی گئیں۔
تونسہ پولیس تھانہ سٹی میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا، جس کے مطابق تونسہ کے بوائز ہائی اسکول میں قائم ویئر ہاؤس سے 43665 کتابیں چوری کر لی گئی ہیں۔
عدالتی حکم پر سرکاری اسکولوں میں کتابوں کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ضلع شرقی آصف علی عباسی نے مختلف اسکولوں کا دورہ کیا۔
پولیس کے مطابق سرکاری کتابیں چوری ہونے پراسکول کے چوکیدار اور گودام کے ذمے داروں سمیت 7 افراد پر مقدمہ درج کر لیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق رواں سال کے نصاب کی کتابیں تونسہ کی سرکاری اسکولوں میں اسی ماہ میں تقسیم کرنا تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرکاری اسکول کتابیں چوری
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔