پی پی اور ن لیگ نمائشی لڑائی سے عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
پشاور(آئی این پی ) صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ پی پی اور ن لیگ نمائشی لڑائی سے عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے،چیئرمین سینیٹ کے پروڈکشن آرڈرز پر پی پی نمائشی بیانات کے بجائے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرے ۔اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے کے جرم میں وزیراعلی مریم نواز کو طلب کرکے توہین سینیٹ کی کارروائی کریں ۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ اعجاز چوہدری کے لیے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر وزیراعلی پنجاب 3 ماہ سے عمل درآمد نہ کرکے سینیٹ کی توہین کر رہی ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ تھرتھر کانپنے کے بجائے سینیٹ کی توہین پر وزیراعلی پنجاب کو طلب کرکے کارروائی کریں ۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ 3ماہ سے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ ہونا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی ملی بھگت ثابت کرتا ہے ۔ چیئرمین سینیٹ کے پروڈکشن آرڈرز پر پیپلز پارٹی نمائشی بیانات دینے کے بجائے حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرے ۔ترجمان پختونخوا حکومت کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نمائشی لڑائی سے عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، دونوں جماعتیں عوام اور تاریخ میں 26 ویں ترمیم کرنے والے جمہوریت کش ٹولے کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پروڈکشن آرڈرز پر چیئرمین سینیٹ بیرسٹر سیف
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔