وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کا اسلام آباد کیریج فیکٹری کا دورہ، مقامی پیداوار بڑھانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 مارچ2025ء)وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے اسلام آباد کیریج فیکٹری (ICF) کا تفصیلی دورہ کیا،یہ فیکٹری پاکستان ریلوے کے تحت سب سے بڑی صنعتی اکائی ہے جو وزارتِ ریلوے، حکومتِ پاکستان کے زیرِ انتظام چل رہی ہے، فیکٹری سالانہ 120 نئی مسافر کوچز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔دورے کے دوران، وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور پیداوار کے عمل، معیار، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
وزیرِ موصوف نے فیکٹری میں تیار کی جانے والی مسافر کوچز کا معائنہ کیا۔جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، فیکٹری نے چین کی کمپنی چانگ چون کار کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا، جس کے تحت نئی طرز کی چینی کوچز کی تیاری کی جا رہی ہے، ان کوچز میں ایئر اسپرنگ بوگیاں، برقی ہاٹ ایکسل ڈیٹیکشن، بہتر سواری کا معیار، پائیداری اور رفتار جیسے جدید فیچرز شامل ہیں، اور 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔(جاری ہے)
وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کے دورے کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر، وٴْلی (Wulei) کے ساتھ ملاقات کی اور فیکٹری کی پیداوار کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے گفتگو کی۔ وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ فیکٹری کی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے تاکہ پاکستان ریلوے کو برآمدات پر کم سے کم انحصار ہو اور پاکستان ریلوے خودمختار اور خود کفیل بن سکے۔ وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کی استعداد کو بڑھانے کے لیے مناسب اقدامات کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کے ورکروں سے ملاقات کی۔ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ مجھے اپنے مزدوروں پر فخر ہے۔ ریلوے کے مزدور ہمارے بازو ہیں جن کی مدد سے ہم ریلوے کو چلا رہے ہیں۔ وزیر ریلوے نے مزدوروں کے مسائل کو سناانہوں نے ورکروں کی شکایات کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے اور حکومت کی جانب سے ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کروائی۔وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کے عملے کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اس ادارے کی مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید کاری پاکستان ریلوے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزیر نے فیکٹری کی پیداوار، معیار اور استعداد کو مزید بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔وزیر ریلوے نے ڈی جی فوڈ کو بھی احکامات جاری کیے کہ وہ فوری طور پر اسٹیشنز کا دورہ کریں اور اسٹیشنز کی ہوٹل اور ٹک شاپ کی فوڈ کوالٹی چیک کر کے رپورٹ پیش کریں۔اسلام آباد کیریج فیکٹری کا قیام 1970 میں فرانسیسی کمپنی السٹوم (پہلے لنک ہوفمین بش کے نام سے جانی جاتی تھی) کے تعاون سے عمل میں آیا۔ فیکٹری کا مقصد پاکستان میں برقی اور ڈیزل انجنوں اور کوچز کی مقامی تیاری کو فروغ دینا تھا تاکہ پاکستان ریلوے کی درآمدات پر انحصار کم ہو سکے۔ ابتدائی طور پر یہاں جرمن طرز کی کوچز تیار کی جاتی تھیں جنہیں لنکے ہوفمان بش کی ٹیکنالوجی کے تحت تیار کیا گیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان ریلوے اسلام ا باد کی صلاحیت فیکٹری کی کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔