Juraat:
2026-07-24@15:37:21 GMT

پاک سعودیہ بڑھتے تعلقات

اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT

پاک سعودیہ بڑھتے تعلقات

حمیداللہ بھٹی

پاک سعودیہ دوستی کی تابناک تاریخ کئی عشروں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک میں عوامی روابط کے ساتھ اعلیٰ سطح کے دوطرفہ دورے بھی معمول ہیں۔رواں ماہ بدھ 19مارچ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیرِ اعظم کامنصب سنبھالنے کے بعدسعودیہ کا دوسرا سرکاری دورہ کیاہے جس سے باہمی تعلقات میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے ۔دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں زیاراتِ مقدسہ کے ساتھ دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات کاجائزہ لیا۔ پاکستان چاہتاہے سعودیہ صنعت و زراعت میں سرمایہ کاری بڑھائے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے میں کشاد ہ دلی دکھائے۔ گزشتہ برس اپریل 2023 کوبھی شہباز شریف نے سعودی عرب کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا ۔اِس دوران معمول کے تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی لیکن موجودہ دورے میں جس قدر اُنھیں پزیرائی ملی ہے اُس کی روشنی میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اِس دورے سے دونوں ممالک میں موجود بدگمانیوں کا نہ صرف خاتمہ ہوا ہے بلکہ ہر شعبے میں تعاون کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری اب بھی پاکستان میں کم ہے کیونکہ سعودی قیادت اِس حوالے سے بھارت کو ترجیح دیتی ہے۔ بھارتی کردار کومشرقِ وسطیٰ میں فروغ دینے میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کا اہم کردار ہے جنھیں بھارت اپنا دوست کہہ کر عرب ممالک میں رسوخ بڑھاتا رہا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ماضی میں فلسطینیوں کی خیرخواہی کا دم بھرنے والا اب اسرائیل کا قریبی دوست اور اتحادی ہے۔ ریاستوں کے باہمی تعلقات مستقل نہیں ہوتے۔ یہ حالات و مفاد کے تابع ہوتے ہیں ۔اسی لیے عرب ممالک کا بھارت کی طرف جھکائو برقرارہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان معاشی کے ساتھ عالمی کردار بہتر بنانے پر توجہ دینے لگا ہے اب دوست ممالک سے تعاون بڑھانے اورمزید قریب ہونے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنارہونے لگی ہیں۔
سعودی عرب اور یمن جنگ کے دوران غیر جانبدار رہنے کی پاکستانی پالیسی نے ریاض اور اسلام آباد کو دورکردیا تھا مقدس مقامات کی سرزمین ہونے کی وجہ سے سعودیہ کو مسلم ممالک میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اِس بنا پر سعودی قیادت کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس مسلم ریاست کو آواز دے گی اُس کاجواب ہمیشہ مثبت آئے گا حالانکہ مملکتوں کے تعلقات مفادات کے تناظر میں بڑھتے اور کم ہوتے ہیں۔ سعودی قیادت کی یہ توقع کچھ غلط بھی اِس بنا پر نہیں کہ ایک تو مقدس مقامات کی سرزمین ہے ۔دوم تیل کی دولت کی وجہ سے مسلم ممالک میں مالی حوالے سے خوشحال ہے۔ اسی لیے مذہبی لگائو اور مالی امداد جیسی توقعات اُسے مسلم ممالک میں اہم کرتی ہیں۔ پاکستان نے تو ہمیشہ سعودی احکامات کی بجاآوری کی ہے۔ اسی لیے غیر جانبداری اختیار کرنااُسے سخت ناگوار گزرا،جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کی جگہ سرد مہری آئی۔ ابتدامیںپاکستان نے سفارتی زرائع سے پیداشدہ صورتحال درست کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ بن سکی کچھ دوست ممالک کا کردار بھی تلخی کم نہ کر سکا ۔یوں تاریخ میں پہلی بار پاک سعودیہ تعلقات خراب ہوئے حالانکہ ماضی میں پاکستان نے ہمیشہ سعودیہ کی ہاں میں ہاں ملائی دراصل پاکستان کایمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ سعودیہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ علاوہ ازیں شریف خاندان کی حکومت کے دوران تو ایسا ہونابعید ازقیاس تھا جن کی برسوں تک سعودی شاہوں نے مہمان نوازی کی۔ اسی بناپر یقین تھا کہ سعودی آواز پر پاکستان عسکری مدد فراہم کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لے لگا لیکن پہلی بار پاکستان نے سعودی فیصلوں میں ساتھ دینے سے اجتناب کیاجوتلخی جنم دینے کا باعث بنا۔
پاکستان نے ایک غلطی یہ کی کہ یمن جنگ کا مسلہ پارلیمنٹ میں پیش کردیا جس پرزوردار بحث ہوئی عمران خان جیسے اپوزیشن رہنمائوں نے شعلہ بیانی سے حکومت کو اِس حد تک زچ کر دیا کہ نواز شریف باوجود کوشش کچھ نہ کر سکے آخرکار بحث ومباحثہ کے بعد پارلیمنٹ نے دس اپریل 2015 کو اپنی افواج بھیجنے کی بجائے یمن جنگ میں غیر جانبدار رہے کی قراردادمنظورکر لی جبکہ سعودیہ کو توقع تھی کہ شریف خاندان احسانات کا بدلہ لڑائی کے لیے فوج بھیج کر چکائے گا مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا غیر جانبدار ی کے فیصلے پر متحدہ عرب امارت نے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے ڈالی حالانکہ عرب مارات کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ کسی سے لڑناتو درکنار اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہے صاف ظاہر تھا کہ اُس نے یہ دھمکی سعودی قیادت کے ایما پر دی تھی۔ اِس لیے تلخی کا ذمہ اکیلے پاکستان کو ٹھہرانا انصاف نہیں ایک طرف اگر توقعات پوری نہ ہونے کارنج تھا تو دوسری طرف مجبوریاں آڑے آئیں ۔
2018 کے عام انتخابات میں شریف خاندان حکومت سے اپوزیشن میں آگئے اورعنانِ اقتدار عمران خان نے سنبھال لی تو اُنھیں معلوم ہوا کہ سعودی ترسیلاتِ زر کھونے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ نیز قرضوں کی دلدل میں پھنسے پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت جیسی نوازش ایک اور مہربانی ہے۔ پاکستان جسے کئی عشروں سے معاشی بدحالی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ نوازشات بہت اہم ہیں اصل حالات کا علم ہوتے ہی وہی عمران خان جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے یمن جنگ کا حصہ بننے کو ملک کے لیے نقصان دہ تصور کرتے تھے حکومت میں آتے ہی سعودی تعاون بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے نہ صرف سعودی شاہوں سے زاتی تعلقات بنائے بلکہ دوطرفہ تعاون بہتر بنایا افرادی قوت فراہمی کے مزید کئی معاہدے کیے مئی 2021کے دورہ سعودی عرب کے دوران عمران خان نے دوطرفہ تعاون میںاضافے کے لیے ایک کونسل تشکیل پائی جس کاتلخیاں کم کرنے اور شراکت داری کے فروغ میں قابلِ قدرحصہ ہے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے بھی عمران خان کی کوششوں کو بارآور بنانے میں بھرپور ساتھ دیا اِس طرح دوریاں کم ہوئیں اور باہمی تعلقات میں کچھ گرمجوشی دیکھی جانے لگی ۔ پاک سعودیہ بڑھتی شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت ہیں دفاع،توانائی،آئی ٹی،معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی یہ شراکت داری برقرار رہے گی۔ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے مطابق آمدہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا حجم پچیس ارب ڈالر ہو گااگر سرمایہ کاری کا یہ سنگِ میل توقعات کے مطابق عبور کر لیا جا تا ہے تو نہ صرف پاکستان کی معیشت میں بہترہو گی بلکہ تیل کے متبادل معیشت بنانے کے سعودی منصوبہ کوبھی تقویت ملے گی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: دوطرفہ تعاون سرمایہ کاری دونوں ممالک سعودی قیادت پاک سعودیہ پاکستان نے ممالک میں کے دوران کہ سعودی کے ساتھ

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم