اسلام آباد کے ہسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : اسلام آباد کے ہسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں کو مرحلہ وارسولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا، پہلے فیز میں پمز اسپتال، پولی کلینک سولر توانائی پر منتقل ہوں گے، این آئی آر ایم ، ایف جی اسپتال سیکنڈ فیز میں سولر پر منتقل ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نے پمز، پولی کلینک سے سولرائزنگ پلان مانگ لیا، پمز، پولی کلینک سولرائزیشن منصوبہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہو گا، پمز، پولی کلینک کی ایمرجنسی، او پی ڈی بلڈنگ، وارڈز سولر پر منتقل ہوں گے۔ پمز اسپتال، پولی کلینک انتظامیہ سولر توانائی منتقلی پلان تیار کر رہی ہیں، پمز، پولی کلینک کی سولر پر منتقلی سے بلوں کی مد میں کثیر بچت ہو گی، ماضی میں عدم ادائیگی پر متعدد بار پمز، پولی کلینک کی بجلی منقطع ہو چکی ہے۔
اہم ملک نے پاکستانی طلبہ کیلئے مفت تعلیم کےدروازے کھول دیے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پولی کلینک
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔