خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کیلئے سول انتظامیہ کو لیڈ رول دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کےلیے سول انتظامیہ کو لیڈ رول دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دہشت گردی رکوانے کے لیے افغان جرگے سے مذاکرات صوبائی حکومت کرے گی، پالیسی وفاق دے گا۔
وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کائینیٹک آپریشنز جاری رہیں گے۔ پولیس میں نئی بھرتیاں ہوں گی، جدید اسلحہ و دیگر آلات خریدے جائیں گے۔ اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کا ڈیٹا بیس بنایا جائے گا۔ جن دہشت گردوں کے سروں کی قیمتیں مقرر ہیں، ان کی فہرست بھی ہر ماہ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔ سہولت کاری میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان روس جنگ کو جہاد قرار دیا گیا پھر امریکا کے حملے پر ہماری پالیسی تبدیل ہوئی۔
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لوکل انٹیلی جنس کو وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں سے منسلک کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کی فنڈنگ کا بڑا ذریعہ منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ ہے۔ اسمگلنگ روکنے کے لیے چیک پوسٹس پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ اسکینرز لگیں گے، الیکٹرانک کارگو ٹریکنگ سسٹم فعال کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی جی پی ایس ٹریکنگ کےلیے پروفائلنگ اگست میں مکمل ہوگی۔ فارن فنڈنگز پر چلنے والے مدارس کا آڈٹ کروایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اجلاس میں کیا گیا جائے گا
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :