ڈی جی خان:

پنجاب پولیس نے عیدالفطر کی آمد سے قبل امن و امان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس ڈیرہ غازی خان نے خیبرپختونخوا بارڈر پر واقع سرحدی چوکی لکھانی پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، لکھانی چیک پوسٹ پر 20 سے 25 خوارجی دہشتگرد چاروں اطراف سے حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے مارٹر گولے، راکٹ لانچرز، سنائپر رائفلز اور دیگر بھاری اسلحہ کا استعمال کیا۔ تاہم، پولیس، ایلیٹ فورس اور ایس او یو کے بہادر جوانوں نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیک پوسٹ کا دفاع کیا اور دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ترجمان کے مطابق، پولیس کے تمام جوان اس حملے میں محفوظ رہے، جو کہ فورس کی پیشہ ورانہ مہارت اور مستعدی کا ثبوت ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ڈیرہ غازی خان پولیس کو دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر شاباش دی اور مستقبل میں بھی ایسے آپریشنز جاری رکھنے کا حکم دیا۔ آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے آپریشن کی نگرانی کی جبکہ ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کی قیادت میں کیو آر ایف ٹیموں نے بروقت کارروائی کی۔

سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس ٹیموں کا سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈیرہ غازی خان پنجاب پولیس

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب