پاکستان کا افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا مسئلہ بھرپور طریقے سے وزارت خارجہ کے ذریعے اٹھایا جائےگا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت کاؤنٹر ٹیرارزم کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا، جس میں اہم نکات زیر بحث آئے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل
اجلاس میں وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، چیف کمشنر اسلام آباد، کوآرڈینیٹر نیشنل ایکشن پلان اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزیر قانون پنجاب ملک صہیب احمد، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف، وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار، وزیر داخلہ آزاد کشمیر اور وزیر داخلہ گلگت بلتستان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکریٹریز داخلہ اور آئی جیز نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار کو بڑھانے پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ دہشتگردی کے مؤثر سدباب کے لیے صوبائی سطح پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طریقے سے فعال کیا جانا انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔
محسن نقوی نے کہاکہ وفاقی سطح پر ایف آئی اے کے کاونٹر ٹیررازم ونگ کو بھر پور طریقے سے فعال کیا جائے گا۔
اجلاس میں نیشنل اور پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے اور تمام صوبوں میں پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جارہاہے۔
اجلاس میں بہتر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کو دہشتگردی کا شکار بنا دیا، طارق فاطمی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ادارے غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سیکیورٹی کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اٹھانے کا فیصلہ افغانستان پاکستان دہشتگردی وزارت خارجہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹھانے کا فیصلہ افغانستان پاکستان دہشتگردی وی نیوز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔