عیدالفطر کے چاند کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
پاکستان میں عیدالفطر (ماہ شوال المکرم) کا چاند دیکھنے کےلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگیا۔
رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے عیدالفطر کا چاند دیکھنے کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی روہت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
اجلاس میں وزرات مذہبی امور، وزرات موسمیات کے حکام بھی شریک ہوں گے۔ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی اور سپارکو کے حکام ٹیکنیکل معاونت فراہم کریں گے۔ چاند کی رویت کا حتمی اعلان چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کریں گے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد اور گردونواح میں آج مطلع بالکل صاف ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ اتوار کو کراچی سمیت ملک کے بیشتر علاقوں مطلع صاف ہوگا اور شوال کا چاند نظر آسکتا ہے۔
کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس بھی ہو رہے ہیں۔
پشاور اور لاہور میں چاند کی صورتحالپشاور میں شوال کا چاند دیکھنے کےلیے زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کچھ دیر بعد شروع ہوگا۔
اجلاس اوقاف ہال چارسدہ روڈ پر شام 6 بجے ہوگا ،10 رکنی کمیٹی میں 4 ارکان مرکز اور 6 زونل کمیٹی شریک ہیں۔
پشاور میں ہونے والے اجلاس میں مولانااحسان الحق،مولانا عبدالبصیر مدنی، مولانا طیب قریشی، مولاناعابدحسین شاکری،مفتی جمیل رضوی شریک ہیں۔
ادھر لاہور میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ایوان اوقاف میں ہوگا ، جس میں علما کرام،ماہرین فلکیات اور محکمہ موسمیات کے نمائندے شریک ہوں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں غروب آفتاب کے بعد 7 بج کر 37 منٹ تک چاند نظرآنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں مطلع صاف ہے اور عیدالفطر کا چاند نظر آنے کا دورانی 74 منٹ ہوگا ۔
کوئٹہ میں اجلاسعیدالفطر کا چاند دیکھنے کےلیے زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ڈی پی کمپلس کوئٹہ میں ہوگا۔
اجلاس میں علماء کرام، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کے حکام شریک ہوں گے، زونل کمیٹی چاند کی رویت کے حوالے اور شہادتیں موصول ہونے کے بعد مرکزی کمیٹی کو آگاہ کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق چاند کی رویت کے حوالے سے حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر حصے میں مطلع صاف ہے اور صوبے میں شوال کا چاند نظر آنے کا امکان موجود ہے۔
عید الفطر کی چھٹیوں کا اعلانوفاقی حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر ملک بھر میں 3 دن کی چھٹی کا اعلان کیا ہے، جس کا آغاز پیر 31 مارچ سے ہوگا۔
مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عید آجدنیا کے کئی ممالک میں آج عیدالفطر منائی گئی ، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت ، بحرین ، یمن ، فلسطین ،افغانستان، برطانیہ ،یورپی ممالک شامل ہیں۔
پاکستان میں اے این پی کا بھی 30 مارچ کو عید منانے کا اعلانپاکستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے آج عیدالفطر منانے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا چاند دیکھنے کے محکمہ موسمیات کے شوال کا چاند لاہور میں کا اعلان کے مطابق اجلاس ا چاند کی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔