نمازِ عید ؛ مساجد کے اندر اور باہر فائرنگ سے 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں نمازِ عید کے دوران دو مساجد کے اندر اور باہر فائرنگ کے واقعات پیش آئے، جس میں 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صوابی میں گدون اُتلہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نمازِ عید کے بعد مسجد کے سامنے فریقین کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 بھائی جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیاہے۔
ایبٹ آباد میں مسجد کے اندر فائرنگ سے ایک شخص قتل
دوسری جانب ایبٹ آباد میں کالا پل کے مقام پر عید الفطر کی نماز کے بعد ایک شخص قتل اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق عمران نامی شخص کو مسجد کے اندر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
فائرنگ کے دوران گولیاں لگنے سے 3 افراد شدید ہوئے۔ مقتول اور زخمیوں کو ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قتل کی وجہ دیرینہ دشمنی بتایا جا رہا ہے۔
ہاتھ میں گرینیڈ پٹاخہ پھٹنے سے بچہ زخمی
علاوہ ازیں صوابی کے علاقے ترلاندی گاؤں میں عبداللہ نامی بچہ ہاتھ میں گرینیڈ پٹاخہ پھٹنے سے زخمی ہوگیا۔ ریسکیو 1122 نے اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچ کر بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے کالو خان اسپتال منتقل کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔