محصور پاراچنار میں نماز عیدالفطر کی ادائیگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ادائیگئ نماز کے بعد خطبہ عید دیتے ہوئے حسینی مرکز کے سپریم لیڈر جناب شیخ فدا حسین مظاہری نے فرمایا کہ طوری بنگش قوم علاقے میں امن و امان کی خواہاں ہے، اپنے آبائی علاقے کو وہ بدامنی اور قتل و غارتگری کی بھینٹ کسی صورت میں نہیں چڑھنے دے گی۔ انہوں نے امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوہاٹ اور اسکے بعد 29 مارچ کو صدہ عباس قلعہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد روڈ بلاک رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: ایس این حسینی
پیر 31 مارچ کو نصف سال سے محصور پاکستانی غزہ پاراچنار میں عیدالفطر روایتی اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ 6 ماہ سے محصور علاقے پاراچنار میں تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت اور مجبوری کے باوجود روایتی انداز سے عید منا کر اپنی ثابت قدمی اور رضا برضائے الہیٰ کا عملی نمونہ پیش کیا، اس دوران ڈیڑھ سو سے زائد مقامات پر نماز عید کے اجتماعات ہوئے۔ تاہم علاقے کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی عیدگاہ پاراچنار میں منعقد ہوا۔ جس میں 30 ہزار سے زائد لوگوں نے مرکزی جامع مسجد کے پیش امام اور حسینی مرکز کے پیش امام فدا حسین مظاہری مد ظلہ العالی کی اقتداء میں نماز عید ادا کی۔ اس کے علاوہ زیڑان قباد شاہ خیل میں سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی کی اقتداء میں نماز ادا کی گئی۔ ادائیگئ نماز کے بعد خطبہ عید دیتے ہوئے حسینی مرکز کے سپریم لیڈر جناب شیخ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ طوری بنگش قوم علاقے میں امن و امان کی خواہاں ہے، اپنے آبائی علاقے کو وہ بدامنی اور قتل وغارتگری کی پھینٹ کسی صورت میں نہیں چڑھنے دے گی۔
انہوں نے امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوہاٹ اور اس کے بعد 29 مارچ کو صدہ عباس قلعہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد روڈ بلاک رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی ضامن حسین نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد اپر کرم میں ہم اپنی طرف سے روڈ کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ کوئی روڈ بند کرتا ہے، وہ کرتے رہیں۔۔ اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ وہ حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ ہماری طرف سے یک طرفہ اور خیر سگالی کے طور پر روڈ کھلا ہے۔ کسی کو روڈ پر روکا نہیں جائے گا۔ خیال رہے کہ کسی بھی خطرے یا حادثے سے نمٹنے کیلئے پولیس اور مقامی رضا کار فورس پاسداران حسینی کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ) https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاراچنار میں امن معاہدے دیتے ہوئے کے بعد
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان