تمہاری خاموشی تمہاری حفاظت نہیں کرسکے گی، بولی سپراسٹار شاہ رخ خان کے پیغام عید کے جواب میں ہندو خاتون نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:شاہ رخ خان کی تصویر والی شرٹ پہننے پر ماہرہ خان کو تنقید کا سامنا

عید الفطر پر بولی ووڈ کے سپراسٹار شاہ رخ خان نے اپنے فینز کے نام عید کے پیغام میں کہا ہے کہ ’خوش رہیں، سلامت رہیں اور اللہ آپ سب کو خوش رکھے‘۔

Eid Mubarak… With gratitude in my heart and duas for one and all!!
Hope your day is full of hugs, biryani, warmth and endless love.

Stay happy, stay safe and may God bless you all!!

— Shah Rukh Khan (@iamsrk) March 31, 2025

سماجی رابطوں کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام عید میں بولی ووڈ سپراسٹار نے لکھا کہ ’عید مبارک، دل میں شکر گزار ہوں اور سب کے لیے دعائیں‘۔

شاہ رخ خان نے مزید لکھا کہ ’امید ہے کہ آپ کا دن گلے ملنے، بریانی کھانے، گرمجوشی اور نہ ختم ہونے والی محبتوں سے بھرا ہوگا۔ خوش رہیں، سلامت رہیں اور اللہ آپ سب کو خوش رکھے‘۔

Woh sabtoh thik hain magar tumhari qaum mar rahi hain us sarkar k haath jiska support tum kar rahe hon passively. Silence sahi nahi hain. Kuch toh bolo. Musalmaano k liye na sahi, as citizen as human ki sarkar joh kar rahi hain woh galat hain. Your silence won't protect u

— Radhika Barman ???????? (@RadhikaBarman5) March 31, 2025

بولی ووڈ سپر اسٹار کے اس پیغام عید کے جواب میں ایک خاتون صارف ردھیکا برمن نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

رادھیکا برمن نے شاہ رخ خان کی پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ ’وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تمہاری قوم مر رہی ہے، اس حکومت کے ہاتھوں جس کی حمایت تم کر رہے ہو‘۔

رادھیکا نے مودی سرکار کے مسلمانوں کیخلاف اقدامات پر  شاہ رخ خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’خاموشی ٹھیک نہیں ہے، کچھ تو بولو!‘۔

رادھیکا نے لکھا کہ ’آپ کو مسلمانوں کے لیے نہ سہی، مگر بحیثیت شہری آواز اٹھانا چاہیے، حکومت جو کر رہی ہیں وہ غلط ہے۔ تمہاری خاموشی تمہاری حفاظت نہیں کرے گی‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شاہ رخ خان لکھا کہ کے لیے خان کو

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا