پاکستان ہارٹیکلچر اتھارٹی کا ٹری ٹرانسپلانٹرز کی منتقلی پر بھاری فیسیں وصول کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
دور نایاب: پاکستان ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے کمرشل بنیادوں پر شہریوں کو ٹری ٹرانسپلانٹرز کی منتقلی کی سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ایچ اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے اس فیصلے کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔
پی ایچ اے نے فی درخت منتقلی کے لئے 25 ہزار روپے فیس مقرر کی ہے جبکہ مشین موومنٹ اور ٹرانسپورٹیشن چارجز 500 روپے فی کلو میٹر ہوں گے۔ ایک سے زائد درختوں کی منتقلی پر ٹرانسپورٹیشن چارجز 20 ہزار روپے ہوں گے۔
کرشمہ کیور کو لولو اور کرینہ کو بیبو کیوں کہتے ہیں؛ لولو نے خوبصورت وجہ خود بتادی
اس نئے فیصلے کے تحت پی ایچ اے مفت سروس کی بجائے اس ضروری سہولت سے بھی مالی فائدہ حاصل کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ایچ اے
پڑھیں:
سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سیکریٹریٹ نے چینی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 95 ملین (9 کروڑ 50 لاکھ) روپے کی لاگت سے ایک بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق کابینہ ڈویژن اس کی فوری ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے اہم سرکاری مصروفیات منسوخ کرنا پڑیں۔
یہ نئی ٹویوٹا لینڈ کروزر 3500 سی سی گاڑی پہلے سے موجود ایسی گاڑیوں کے پول اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جو مختلف سرکاری محکموں نے حملوں کی زد میں آنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے یا تو خریدی ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ زیادہ خطرات کی وجہ سے چینی شہریوں کو بغیر بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑی صرف چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خریدی جا رہی ہے، جن کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس، ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم
حکومت پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42-سی (vii) کا نفاذ کرتے ہوئے مقامی اسمبلر کے ڈیلر سے براہ راست معاہدے کے ذریعے یہ گاڑی خریدے گی۔سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے مطلوبہ فنڈز موجود نہیں تھے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 58.3 ملین روپے منتقل کرکے 30 جون تک آرڈر دینے کا انتظام کیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے آرڈر نہیں دیا جا سکا۔
مزید :