اسحاق ڈار کے دورۂ بنگلہ دیش کی تاریخ سامنے آ گئی، اہم شخصیات سے ملاقاتیں طے ،متعدد معاہدوں پر دستخط متوقع
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ بنگلہ دیش کی تاریخ سامنے آ گئی، اہم شخصیات سے ملاقاتیں طے ،متعدد معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے ۔
تفصیلات کے مطابق اپریل کے تیسرے ہفتے میں بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے،یہ2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اور دوطرفہ روابط کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
"ایکسپریس نیوز " کے مطابق حنا ربانی کھر بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی آخری وزیر خارجہ تھیں،گزشتہ سال پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی معزولی سے دوطرفہ روابط میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی، اعلیٰ سطحی رابطے بحال ہوئے۔ بنگلہ دیش نے پاکستانی برآمدات پر پابندیاں اٹھا لیں، تجارت میں اضافہ ہوا، سمندری راستے سے براہ راست تجارت شروع ہوئی، براہ راست پروازوں پر اتفاق ہوا، دوطرفہ دفاعی روابط میں مضبوط ہوئے۔
کوالالمپور کی گیس پائپ لائن میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، 33 افراد زخمی
جنوری میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کا دورہ کیا، جوکہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد روابط میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار22 اپریل کو 3 روزہ دورے پر بنگلہ دیش پہنچیں گے، جس میں وہ بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کے علاوہ ہم منصب توحید حسین اور بنگلہ دیشی کابینہ کے ارکان باضابطہ مذاکرات کریں گے۔ اس دوران متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔