کوئٹہ: ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) والے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے اور خود کو ان میتوں کا وارث کہا۔ بی وائی سی والے عملے کو مارپیٹ کر لاشیں لے گئے۔ کہا احتجاج کے نام پر شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ عوام فیصلہ کرے کہ بی ایل اے کے وارث کون ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ سب کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شہر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں سامنے آئیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لاشوں کو لینے کا حق صرف ان کے ورثاء کا ہوتا ہے، تاہم ہسپتال میں لاشیں لینے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی والے پہنچ گئے، ہسپتال میں انہوں نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔ ہسپتال کے کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر جلایا گیا، پوسٹ آفس اور بینک کے دروازے توڑے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا، جس میں 2 لاشوں کو لے کر مظاہرین نے سڑکوں پر دھرنا دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم نے صحبت پور سے ورثاء کو بلا کر لاشیں ان کے حوالے کیں، لیکن اس کے بعد دوبارہ ایک جتھا آیا۔
اعتزاز گورایا نے کہا کہ ”اگر پولیس نے فائرنگ کی تو وہاں 2 ہزار افراد تھے، تو انہیں گولی کیوں نہیں لگی؟“ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کے دوران 61 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کی پابندی کی جانی چاہیے۔
 ڈی سی سعد نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بھی 2 لاشوں کے لیے دھرنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف 12 مارچ کی شام کو آپریشن شروع کیا جس میں 190 مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا، دوران آپریشن 5 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی سی ٹی ڈی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے توڑ پھوڑ

پڑھیں:

کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی

—فائل فوٹو

نجی ایئر لائن کی حج آپریشن کی پرواز پی کے 940 جدہ سے15 گھنٹے کی تاخیر سے کراچی پہنچ گئی۔

ایئر لائن ذرائع کے مطابق بوئنگ 777 طیارے میں 300 سے زائد حجاج پہنچے ہیں۔

پی آئی اے کے بعد از حج آپریشن کا آغاز ہو گیا

قومی ایئر لائن پی آئی اے کے بعد از حج آپریشن کا آغاز آج سے ہو گیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ طیارے کی عدم دستیابی کے باعث پرواز تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

ایئرلائن ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی ایئر لائن کا یہ حج آپریشن 30 جون کو اختتام پزیر ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں