حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گرفتار خواتین کی رہائی تک بی این پی کا دھرنا اور مارچ جاری رہے گا، مظاہرین آج مستونگ شہر سے لکپاس تک مارچ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومتی وفد اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے مذاکرات کیلئے حکومتی وفد لکپاس پہنچا، وفد میں صوبائی وزیر ظہور بلیدی و دیگر شامل تھے، حکومتی وفد کی جانب سے سردار اختر مینگل سے دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی گئی۔ بی این پی راہنما کے مطابق مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور پھر حکومتی وفد مذاکرات ناکام ہونے پر واپس کوئٹہ روانہ ہو گیا۔
سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ گرفتار خواتین کی رہائی تک بی این پی کا دھرنا اور مارچ جاری رہے گا، مظاہرین آج مستونگ شہر سے لکپاس تک مارچ کریں گے۔ سربراہ بی این پی نے مزید کہا ہے کہ رات کو پارٹی اجلاس میں لانگ مارچ سے متعلق نیا لائحہ طے کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سردار اختر مینگل حکومتی وفد بی این پی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔