علم کے حصول کی طرف توجہ ضروری، ہر خاندان سے ایک شخص کو عالم دین ہونا چاہیے، علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں رئیس الوفاق المدارس الشیعہ کا کہنا تھا کہ اجتہاد کی وجہ سے مسلک اہلبیت میں کوئی بھی مسئلہ بند گلی میں نہیں، فقہا و مجتہدین نے ہر جدید مسئلے کو حل کر کے اسلامی نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ جبکہ دوسرے مکاتب فکر کے ہاں اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع مسجد علیؑ حوزہ علمیہ جامعةالمنتظر ماڈل ٹاون لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن مجید کو چھوڑا تو کچلے جائیں گے۔ قرآن مجید کو سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں، ترجمہ و تفسیر پڑھیں اور اپنی زندگی میں تعلیمات قرآن اور سیرت معصومین پر عمل کریں، توہم کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ علم کے حصول کی طرف توجہ دیں اور ہر خاندان سے ایک شخص کو عالم دین بنائیں۔ تاکہ آپ کا اسلام کی ترویج میں حصہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ ابوالقاسم خوئی، آیت اللہ روح اللہ خمینی، آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای، علامہ ابوالقاسم حائری کو اللہ تعالیٰ نے عزت علم ہی کی وجہ سے ہی عطا کی ہے۔ اسلامی جمہوری ایران کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر خاندان میں ایک عالم دین ہے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جنگ کیلئے کچھ لوگ جائیں اور کچھ دین سیکھیں۔
انہوں نے کہا مسلمان اور عالم بنیں، اسلام کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ آخرت کی زندگی بہتر ہو۔ ورنہ علم اور شیعیت تو چلتی رہے گی مگر ہمارا حصہ نہیں ہو گا۔ محض مجالس کے عشرے کروانا ہی کافی نہیں، دین بھی سیکھنا چاہئے۔ رئیس الوفاق المدارس الشیعہ کا کہنا تھا کہ اجتہاد کی وجہ سے مسلک اہلبیت میں کوئی بھی مسئلہ بند گلی میں نہیں، فقہا و مجتہدین نے ہر جدید مسئلے کو حل کر کے اسلامی نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ جبکہ دوسرے مکاتب فکر کے ہاں اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ انہوں نے کہا علامہ حلی اجتہاد کرتے تھے، ان کے بادشاہ ایران کو طلاق کے بعد مسئلہ بتانے پر پورا ملک ایران شیعہ ہو گیا تھا۔ وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برادران اہل سنت نے طلاق کے بعد رجوع کا حل حلالہ بتایا تھا، جبکہ علامہ حلی بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے تو ہاتھوں میں جوتے سمیت بادشاہ کیساتھ جا بیٹھے۔ اعتراض پر علامہ حلی نے از راہ مذاق کہا حضرت ابوحنیفہ نے رسول اللہ کے جوتے اٹھا لئے تھے۔ جس پر کہا گیا ان کی پیدائش تو بہت بعد کی ہے۔ تو کہنے لگے یہی ہمارا کیس ہے کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ علی علیہ السلام رہے اور ان کی امامت تک سارے آئمہ نے وہ دین پیش کیا جو رسول اللہ نے سکھایا۔ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا کہ حلالہ کی کوئی عقلی دلیل نہیں، مولانا مودودی اور جامعہ الازہر بھی تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے برصغیر میں شہید اول، شہید دوئم اور شہید ثالث کی علمی خدمات اور شہادت کے واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے آیت اللہ نے کہا
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔