اقوامِ متحدہ میں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’نو اَدر لینڈ‘ کی خصوصی نمائش
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
اقوامِ متحدہ میں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم نو اَدر لینڈ کی خصوصی نمائش کی گئی جس میں فلسطینی ہدایتکار نے درد بھری اپیل بھی کردی۔
اقوامِ متحدہ میں آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی دستاویزی فلم نو اَدر لینڈ کی خصوصی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا، جس میں فلم کے ہدایتکار اور سماجی کارکن باسل العدرا نے شرکت کی اور فلسطین میں جاری انسانی بحران پر خطاب کیا۔
فلم کی اسکریننگ اقوامِ متحدہ کی ایک خصوصی کمیٹی کی جانب سے کی گئی جس کا مقصد عالمی برادری کو فلسطین میں اسرائیلی مظالم، خاص طور پر مغربی کنارے میں شدت پکڑتے تشدد سے آگاہ کرنا تھا۔
باسل العدرا نے نا صرف فلم کی جھلکیاں پیش کیں بلکہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو درپیش سنگین حالات پر روشنی ڈالی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی ہدایتکار نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ دنیا دیکھے کہ ہم کس طرح اس سرزمین پر رہتے ہیں اور روزانہ کن ظالمانہ حالات کا سامنا کرتے ہیں، فلم نے آسکر جیتا، لیکن ہماری حقیقت بدستور اذیت ناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مغربی کنارے میں حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم آسکر جیسے عالمی اعزاز کے باوجود اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
باسل العدرا نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ ہم فن کے ذریعے سچ دکھاتے ہیں، لیکن ہمیں انصاف کے لیے صرف ایوارڈز نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں، فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور ہر دن ان پر قیامت بن کر گزر رہا ہے۔
نو اَدر لینڈ ایک طاقتور اور حقیقت پر مبنی دستاویزی فلم ہے جو فلسطینی اور اسرائیلی فلم سازوں کے تعاون سے تخلیق کی گئی ہے۔
فلم میں مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملے، فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور روزمرہ زندگی میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نو ا در لینڈ
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم