Express News:
2026-07-24@15:10:34 GMT

پی ایس ایل کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، نجم سیٹھی

اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل کا آغاز کرنیوالے نجم سیٹھی نے لیگ کے ابتدائی سفر، مشکلات، کامیابیوں اور مستقبل پر روشنی ڈالی۔

کرکٹ پاکستان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پی ایس ایل کے آغاز کا سوچا تو سامنے کئی رکاوٹیں حائل تھیں، لیگ کو دبئی میں لانچ کرنے کا فیصلہ کیا تو پی سی بی کے بھی کئی افراد اس منصوبے کے مخالف تھے، مگر میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اسے ہر حال میں کریں گے، پہلے ہی سال منافع کمایا، اب لیگ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، اگر مالی لحاظ سے مفید ثابت ہو تو کچھ میچز بیرون ملک کرائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کامیاب ہوچکی ہے،پی سی بی کو جتنی آمدنی آئی سی سی سے آتی ہے اتنی ہی اس لیگ سے بھی ہوتی ہے، اب یہ دنیا کا چوتھا امیر ترین بورڈ ہے، سابقہ انتظامیہ نے ایسا ایونٹ لانچ کرنے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی، 6 سے 7 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، ٹیمیں بنائی گئیں لیکن نتیجہ صفر رہا، اس وقت بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پی ایس ایل کو مکمل طور پر پاکستان میں کرانے پر زور دیا جا رہا تھا۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ ابتدائی طور پر اسے بیرون ملک منعقد کرنا زیادہ بہتر ہوگا، میرے خیال میں براڈکاسٹنگ آمدنی سب سے زیادہ اہم تھی اس لیے لیگ کو باہر ہی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا، انعقاد کیلئے دبئی، دوحا اور ملائیشیا سمیت مختلف مقامات پر بات چیت ہوئی، کئی مشکلات آئیں، ان میں سے بڑی مشکل یو اے ای کے وینیوز کا نہ ملنا تھا لیکن مسلسل جدوجہد کے بعددبئی کو قائل کرلیا گیا، پھر مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندر بھی کئی لوگ منصوبے کے مخالف تھے، چیئرمین شہریار خان سمیت اعلیٰ حکام سمجھتے تھے کہ پی ایس ایل کامیاب نہیں ہوگی مگر میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اسے ہر حال میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی سال پی ایس ایل نے تقریبا 2.

6 ملین ڈالر کا منافع کمایا جبکہ ابتدائی اندازہ تھا کہ نقصان ہوگا، اس کامیابی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ فرنچائزز کو نقصان سے بچانے کیلئے حاصل شدہ 2 ملین ڈالر ان میں تقسیم کیے جائیں تاکہ لیگ کا مالیاتی ماڈل مستحکم رہے

ابتدائی فرنچائزز کی قیمت 2.5 ملین ڈالر تھی جبکہ چوتھی ٹیم 4 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی جو اس لیگ کی بڑھتی ہوئی قدر کو ظاہر کرتا ہے، انھوں نے کہا کہ برطانوی کرائم ایجنسی نے ابتدا میں لیگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل اطلاع دی کہ 2کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں، یہ ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن ہم نے اس مسئلے سے سختی سے نمٹا اور کھلاڑیوں کو سزا دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ لیگ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، اگر امریکا یا برطانیہ لے جانا مالی لحاظ سے مفید ثابت ہو تو پی ایس ایل کے کچھ میچز بیرون ملک کرائے جا سکتے ہیں۔

پی ایس ایل نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھولے

نجم سیٹھی نے  کہا کہ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں فائنل پاکستان میں کرانے کا فیصلہ کیا جس کی شدید مخالفت سامنے آئی، فرنچائز مالکان اور حکومت سب ہی غیر یقینی کا شکار تھے، البتہ پشاور زلمی کے جاوید آفریدی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنے ساتھ دیا، لاہور میں فائنل کرایا گیا جس نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھول دیے۔ 

بعد ازاں میں نے آئی سی سی اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کو قائل کیا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونی چاہیے، میں سری لنکا گیا اور ان سے کہا کہ آپ کی وجہ سے ہماری انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہوئی تھی اب آپ ہمیں سپورٹ کریں،اس کے بعد سری لنکا، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پاکستان آئیں، بالآخر پی ایس ایل کو بھی پاکستان منتقل کر دیا گیا۔

دیکھنا ہوگاالگ کمپنی بنانے کا فیصلہ مالی لحاظ سے فائدہ مند ہے یا نہیں

نجم سیٹھی نے کہا کہ میں نے پی ایس ایل کے لیے پی سی بی کے عملے کو ہی استعمال کیا اور اضافی بھرتیاں نہیں کیں، اس سے لاکھوں ڈالر کی بچت ہوئی،ہم نے محدود ٹیم کے ساتھ کام کیا لیکن اگر اب الگ کمپنی بنائی جا رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ مالی لحاظ سے فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔

ملتان ابھی تک نقصان میں ہے، مہنگی نئی ٹیموں کی فروخت کیسے ہوگی؟

پی سی بی اب 2 نئی ٹیمیں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور2 سے ڈھائی ارب روپے میں ایک ٹیم فروخت کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، نجم سیٹھی نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا اتنی بڑی قیمت پر کوئی ٹیم خریدی جائے گی؟ملتان سلطانز ابھی تک نقصان میں ہے،ایسے میں مہنگی نئی ٹیموں کی فروخت کیسے ممکن ہوگی؟۔

انھوں نے کہا کہ اس سال پی ایس ایل پہلی بار انڈین پریمیئر لیگ کے ساتھ ہو رہی ہے، پلیئرز ایکوزیشن پر زیادہ اثر نہیں پڑا، مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ خراب کارکردگی کی وجہ سے اسپانسرز ہچکچا رہے ہیں، پی ایس ایل کے میڈیا حقوق اور اسپانسرشپ معاہدے پہلے ہی طے ہو چکے ہیں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ اہم ہوگا کہ کیا لیگ مزید اسپانسرزکو اپنی طرف متوجہ کر سکے گی؟۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے نجم سیٹھی نے مالی لحاظ سے فیصلہ کیا ملین ڈالر نے کہا کہ کا فیصلہ پی سی بی کیا کہ تھا کہ لیگ کو

پڑھیں:

وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو وسیم خان کو باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہے، وہ جنوری 2027 میں باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

فیبا ایشیا کے مطابق وسیم خان نے عہدے کی منتقلی کے عمل کے لیے تنظیم کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے اور وہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہاگوپ کھاجیرین سے ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل مکمل رہنمائی اور انتظامی امور کا جائزہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل مینیجر آئی سی سی وسیم خان کا عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ

وسیم خان فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے پورے ایشیا میں باسکٹ بال کے فروغ، انتظامی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے، جس کے دائرہ کار میں براعظم کی 44 قومی باسکٹ بال فیڈریشنز شامل ہیں۔

برطانوی نژاد پاکستانی اسپورٹس منتظم وسیم خان کو کھیلوں کے انتظامی شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں جنرل منیجر کرکٹ کے عہدے پر فائز رہے، جہاں سے انہوں نے رواں سال استعفیٰ دیا تھا۔

اس سے پہلے وسیم خان 2019ء سے ستمبر 2021ء تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رہے۔ اپنے دور میں انہوں نے پاکستان کرکٹ کے اہم مرحلے میں انتظامی امور سنبھالے، بڑی ٹیموں کے دورہ پاکستان کی واپسی میں کردار ادا کیا اور ملکی ڈومیسٹک کرکٹ نظام میں اصلاحات کی نگرانی کی۔

یہ بھی پڑھیں: باسکٹ بال ٹیم کی کامیابی کا جشن ہنگامہ آرائی میں بدل گیا، فیفا شٹل بس نذرِ آتش

وسیم خان اس سے قبل انگلینڈ کے لیسٹرشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے چیف ایگزیکٹو اور برطانیہ میں نوجوانوں کی کرکٹ کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘چانس ٹو شائن’ سے بھی وابستہ رہے۔

ان کی تقرری کو بین الاقوامی کھیلوں کی انتظامیہ میں پاکستانی نژاد افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ کرکٹ کے بعد باسکٹ بال کے عالمی نظام میں بھی اعلیٰ انتظامی عہدہ سنبھالنے والے چند پاکستانی نژاد کھیلوں کے منتظمین میں شامل ہوگئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایگزیکٹو ڈائریکٹر باسکٹ بال پی سی بی فیبا وسیم خان

متعلقہ مضامین

  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم