UrduPoint:
2026-07-24@02:31:06 GMT

اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT

اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اپریل2025ء) قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ نئی شمسی پالیسی تمام فریقوں کے مفادمیں مساویانہ بنیادوں پر بنائی گئی ہے، شمسی توانائی کی پالیسی کوریورس نہیں کیاگیاہے بلکہ اس کومعقول بنایاگیاہے۔ پیرکوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران شرمیلافاروقی کے سوال پروفاقی وزیرمصدق ملک نے ایوان کوبتایا کہ پہلے ہم نے جو پالیسی بنائی تھی اس کے مطابق شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والے شہری 12سے 18ماہ تک کی مدت میں سرمایہ کاری کی رقم واپس حاصل کرلیتے تھے، نئی پالیسی کے تحت اب سرمایہ کاری کرنے والے 3سے لیکر4سال تک کی مدت میں سرمایہ کاری میں لگائی گئی رقوم پوری کرلیں گے۔

انہوں نے کہاکہ شمسی توانائی کی پالیسی کوریورس نہیں کیاگیاہے بلکہ اس کومعقول بنایاگیاہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ اورسولرہمارامستقبل ہے مگرہم نے بجلی کی خریداری کے معاہدوں کے ذریعہ وعدے کئے ہیں اگرہم بجلی نہیں خریدیں گے توپھرکیپسٹی ادائیگیاں کرنی ہوتی ہے۔اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے، اس میں 10سے 11روپے بجلی کی پیداوارکے ہیں، باقی 20روپے حکومت کیپسٹی پیمنٹ کے ذریعہ اداکرتی ہے، کیپسٹی ادائیگیوں کامطلب یہ ہے کہ ہم بجلی استعمال کریں یانہ کریں ہم نے ادائیگی کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعہ حکومت بجلی خریدتی ہے، اس کابوجھ نیٹ میٹرنگ اوردیگرصارفین پرپڑتاہے، دیگرصارفین وہ ہیں جو15سے لیکر30لاکھ روپے تک کاسولرسسٹم اپنی چھتوں پرنہیں لگاسکتے،اسلئے حکومت نے مساویانہ بنیادوں پرپالیسی بنائی ہے تاکہ تمام فریقوں کواس کافائدہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے آہستہ آہستہ متبادل توانائی کی طرف جاناہے، اس میں ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں اورعوامل کوبھی شامل کیاگیاہے۔

حناربانی کھرکے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ ماضی میں آئی پی پیز کے معاہدے ہوئے تھے،ان معاہدوں میں کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگیاں شامل تھیں،اوراس کیلئے جوازبھی موجودتھے۔انہوں نے بتایا پاکستان فوسل فیول نان پروری فلیشن ٹریٹی کارکن نہیں ہے۔پاکستان 19کے قریب معاہدوں پرموثراندازمیں عمل کررہاہے۔ مرزااختیاربیگ کے سوال پرانہوں نے کہاکہ مسائل کے باوجود ملک میں بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے، اس پرمیں پوری قوم کومبارکباددیتاہوں۔

صنعتی شعبہ کیلئے بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، اس سے نہ صرف روزگارمیں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی معیشت پراچھے اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے پہلے سے سولرلگائے ہیں ان پرمعاہدے کی مدت تک نئی پالیسی کااطلاق نہیں ہوتا، نئی پالیسی نئے سولرسسٹم لگانے والوں کیلئے لائی گئی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بجلی کی

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران