UrduPoint:
2026-06-02@22:56:41 GMT

اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے

اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT

اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اپریل2025ء) قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ نئی شمسی پالیسی تمام فریقوں کے مفادمیں مساویانہ بنیادوں پر بنائی گئی ہے، شمسی توانائی کی پالیسی کوریورس نہیں کیاگیاہے بلکہ اس کومعقول بنایاگیاہے۔ پیرکوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران شرمیلافاروقی کے سوال پروفاقی وزیرمصدق ملک نے ایوان کوبتایا کہ پہلے ہم نے جو پالیسی بنائی تھی اس کے مطابق شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والے شہری 12سے 18ماہ تک کی مدت میں سرمایہ کاری کی رقم واپس حاصل کرلیتے تھے، نئی پالیسی کے تحت اب سرمایہ کاری کرنے والے 3سے لیکر4سال تک کی مدت میں سرمایہ کاری میں لگائی گئی رقوم پوری کرلیں گے۔

انہوں نے کہاکہ شمسی توانائی کی پالیسی کوریورس نہیں کیاگیاہے بلکہ اس کومعقول بنایاگیاہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ اورسولرہمارامستقبل ہے مگرہم نے بجلی کی خریداری کے معاہدوں کے ذریعہ وعدے کئے ہیں اگرہم بجلی نہیں خریدیں گے توپھرکیپسٹی ادائیگیاں کرنی ہوتی ہے۔اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت 30روپے ہے، اس میں 10سے 11روپے بجلی کی پیداوارکے ہیں، باقی 20روپے حکومت کیپسٹی پیمنٹ کے ذریعہ اداکرتی ہے، کیپسٹی ادائیگیوں کامطلب یہ ہے کہ ہم بجلی استعمال کریں یانہ کریں ہم نے ادائیگی کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعہ حکومت بجلی خریدتی ہے، اس کابوجھ نیٹ میٹرنگ اوردیگرصارفین پرپڑتاہے، دیگرصارفین وہ ہیں جو15سے لیکر30لاکھ روپے تک کاسولرسسٹم اپنی چھتوں پرنہیں لگاسکتے،اسلئے حکومت نے مساویانہ بنیادوں پرپالیسی بنائی ہے تاکہ تمام فریقوں کواس کافائدہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے آہستہ آہستہ متبادل توانائی کی طرف جاناہے، اس میں ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں اورعوامل کوبھی شامل کیاگیاہے۔

حناربانی کھرکے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ ماضی میں آئی پی پیز کے معاہدے ہوئے تھے،ان معاہدوں میں کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگیاں شامل تھیں،اوراس کیلئے جوازبھی موجودتھے۔انہوں نے بتایا پاکستان فوسل فیول نان پروری فلیشن ٹریٹی کارکن نہیں ہے۔پاکستان 19کے قریب معاہدوں پرموثراندازمیں عمل کررہاہے۔ مرزااختیاربیگ کے سوال پرانہوں نے کہاکہ مسائل کے باوجود ملک میں بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے، اس پرمیں پوری قوم کومبارکباددیتاہوں۔

صنعتی شعبہ کیلئے بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، اس سے نہ صرف روزگارمیں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی معیشت پراچھے اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے پہلے سے سولرلگائے ہیں ان پرمعاہدے کی مدت تک نئی پالیسی کااطلاق نہیں ہوتا، نئی پالیسی نئے سولرسسٹم لگانے والوں کیلئے لائی گئی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بجلی کی

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا