پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوجائے ، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لائی جائے ، چار ماہ میں نئے الیکشن کرائے جائیں
قومی سلامتی کمیٹی میں سارے پارلیمان کو دعوت دینی چاہیے ، پریس کانفرنس
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سوچے اور قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوجائے ، اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لائی جائے ، چار ماہ میں نئے الیکشن کرائے جائیں۔پارلیمنٹ ہاؤس کے میڈیا روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل میں ہے اور اس کی وجہ آئین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے ، اگر قومی سلامتی کانفرنس بلانی تھی تو پارلیمنٹ کے اراکین کو اعتماد میں لیا جاتا، الیکشن کے دن رات 23 کروڑ عوام کو ڈرایا، جن کی وجہ سے پاکستان کے یہ حالات ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ جس کرسی پر اسپیکر بیٹھتا ہے وہ پارلیمنٹ کی ہے نہ کہ اداروں کا دفاع کرنا چاہیے ، پاکستان اس وقت کرائسز کا شکار ہے ، ہم نے کون سی بات چھپانی ہے ، کیوں ان کیمرا اجلاس بلایا جاتا ہے ؟ ہم پاگل نہیں ہیں کہ فوج یا ایجنسیوں پر تنقید کریں، کوئی شریف جرنیل کوئی شریف افسر کہہ دے کہ گزشتہ انتخابات شفاف ہوئے ، ایسا کام نہ کریں پاکستان ڈوب رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چار ماہ میں نیا الیکشن کرائیں، اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے ، وقت کا تقاضا ہے کہ نواز شریف خاموشی توڑیں، تحریک انصاف سوچے اور قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوجائے ، قومی سلامتی کمیٹی میں سارے پارلیمان کو دعوت دینی چاہیے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔