بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو جان ابراہم کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نئی فلم ’ڈپلومیٹ‘ پر عائد کی گئی پابندی پر حیران ہیں۔

اس فلم کو جان ابراہم نے خود پروڈیوس کیا ہے جس میں وہ مرکزی کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فلم پر عائد پابندی پر ردعمل دیتے ہوئے اداکار نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ وہ اس پر بہت حیران ہیں کہ ان کی فلم کو بین کردیا گیا ہے۔

جان ابراہم کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی سوچ بہت محدود ہوتی ہے۔ یہ فلم کسی طور پر بھی پاکستان مخالف (اینٹی پاکستان) نہیں ہے۔ اگر کچھ دکھایا گیا ہے تو وہ یہ ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام ایماندار ہے۔‘

        View this post on Instagram                      

A post shared by tseriesfilms (@tseriesfilms)

اداکار نے مزید کہا کہ ’ہم نے اس فلم میں ایک ایماندار پاکستانی وکیل اور ایک ایماندار پاکستانی جج کو دکھایا ہے۔ یہاں تک کہ وہ گشت کرنے والی گاڑیاں جو ہمیں سرحد تک لے جا رہی ہیں، اُن میں بھی ایماندار پولیس اہلکار ہیں۔ وہ دراصل دوسرے لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ تو ہم نے کسی کو بھی کسی طور پر نیچا نہیں دکھایا۔‘

یاد رہے کہ جان ابراہم کی فلم ’ڈپلومیٹ‘ 14 مارچ 2025 کو ریلیز کی گئی ہے جس کو کم تشہیر کے باوجود بھی شائقین کی جانب سے بےحد پسند کیا جارہا ہے۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by tseriesfilms (@tseriesfilms)

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جان ابراہم

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت