پنجاب میں ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر پروینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے متعلقہ اداروں کو گائیڈلائنز جاری کردیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ پنجاب میں درجہ حرارت میں 4 سے 7 ڈگری تک اضافے کا خدشہ ہے، پنجاب کے بڑے شہر، میدانی علاقے اور خصوصاً جنوبی پنجاب کے اضلاع گرمی کی شدید لپیٹ میں آنے کا خطرہ ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہیٹ ویو کے خدشات کے تحت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، ڈپٹی کمشنرز عوامی مقامات پر ہیٹ ویو سے بچاؤ کی سہولیات یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں، ہیلپ لائن نمبرز، مساجد میں اعلانات، سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو ہیٹ ویو کے خطرات سے آگاہ کریں۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے محکمہ سکول ایجوکیشن کو بچوں کی آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے اور اسکولوں میں ہیٹ ویو سے بچاؤ کے بارے فلیکسز لگانے کی ہدایت کی ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کسانوں کو ہیٹ ویو کے فصلوں پر اثرات سے متعلق آگاہی دی جائے، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ عوامی اجتماع والی جگہوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائیں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر بینرز کے ذریعے شہریوں کو ہیٹ ویو بارے آگاہی دیں، جانوروں کی منڈیوں کے مقامات پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے محکمہ لائیو اسٹاک کو ویٹرنری کیئر سینٹرز 24 گھنٹے فعال رکھنے اور محکمہ صحت کو بھی اسپتالوں میں ہیٹ ویو کاؤنٹر قائم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ ہیٹ ویو سے متاثرہ افراد کی ابتدائی طبی امداد کے لیے ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، عوامی مقامات پر موبائل ہیلتھ یونٹس اور مستقل بنیادوں پر میڈیکل کیمپس لگائیں جائے، شہری ہیٹ ویو کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دھوپ میں سر کو ڈھانپ کر رکھیں پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بچوں بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں، دل کے عارضہ میں مبتلا افراد خصوصی احتیاط کریں، دھوپ میں باہر نہ نکلیں، شہریوں سے التماس ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں، احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہیٹ ویو کے نقصانات سے بچاؤ ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے ہیٹ ویو کے ہیٹ ویو سے سے بچاو کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ