سی پیک پیش رفت پر اجلاس، قراقرم ہائی وے منصوبے کی تکمیل کیلئے وفد چین جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سی پیک کے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزارت منصوبہ بندی میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ، داخلہ، مواصلات، اقتصادی امور، پیٹرولیم، تجارت، خوراک و زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، بحری امور، سرمایہ کاری بورڈ، پلاننگ کمیشن اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں سی پیک کے مختلف منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین کی قیادت میں ماہرین پر مشتمل ایک وفد اپریل 2025ء میں چین کا دورہ کرے گا تاکہ قراقرم ہائی وے منصوبے کے عملی مراحل کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس موقع پر ہائی وے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا، جس کی تکمیل دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔ زرعی تعاون سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس 22 اپریل 2025ء کو بیجنگ میں منعقد ہو گا، جس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد چین روانہ ہوگا۔ وزارت خوراک و زراعت نے آگاہ کیا کہ 300 پاکستانی زرعی ماہرین کی پہلی کھیپ 15 اپریل کو جدید زرعی تربیت کے لیے چین روانہ کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران سی پیک کے تحت ملنے والے زرعی آلات کی ترسیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ متعلقہ وزارت کو ہدایت کی گئی کہ ان آلات کی فوری تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور اس عمل کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ گوادر میں نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ کی فوری فعالی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ متعلقہ اداروں کو تاکید کی گئی کہ اس ہفتے کے اندر تمام رکاوٹیں دور کر کے پلانٹ کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ اسی طرح وزارت توانائی کو ہدایت دی گئی کہ گرمیوں کے دوران گوادر شہر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے زور دیا گیا کہ عالمی رحجانات کے مطابق ایک مربوط مارکیٹنگ حکمت عملی تیار کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سی پیک کے ہائی وے کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک