جماعت اسلامی نے رہائشی پلاٹس کے تجارتی استعمال کی اجازت کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
جماعت اسلامی کے 12 بلدیاتی نمائندوں نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں ترامیم کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ترمیم کے ذریعے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں رہائشی پلاٹس کے کاروباری استعمال کی اجازت دینے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن (کے بی ٹی پی آر) میں ترامیم کے خلاف درخواست دائر کردی۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے 12 بلدیاتی نمائندوں نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں ترامیم کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ترمیم کے ذریعے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایس بی سی اے کی جانب سے جاری 13 مارچ کے نوٹی فکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کیا ہے
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔