بالی ووڈ پر چند بڑے خاندانوں کا قبضہ؛ ایک اور اداکارہ نیپوٹزم کیخلاف پھٹ پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
ایک اور بھارتی اداکارہ نے بالی ووڈ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا جہاں صلاحیتوں سے زیادہ کسی بڑے خاندان کی اولاد ہونا اہم ہے۔
بالی ووڈ کی ابھرتی ہوئی اداکارہ نوشرت بھروچا نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں شکوہ کا ہے کہ بالی ووڈ میں ہمیں سب سے زیادہ سامنا جس مسئلے سے ہوتا ہے وہ نیپوٹزم ہے۔
اداکارہ نوشرت بھروچا نے کہا کہ اپنے بل بولتے پر بالی ووڈ میں آنے والوں کو اسٹار کڈز سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
نوشرت بھروچا نے مزید کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فلموں میں زیادہ مواقع ان اداکار فیملی کے بچوں کو ہی میسر ہیں۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ اس لیے نو وارد فنکار جن کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہوتا انھیں کردار کے حصول اور فلمیں لینے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
نوشرت بھروچا نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ اسٹارز کڈز پر بھی کافی دباؤ ہوتا ہے ان سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔
اداکارہ نے کہا اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ اصل چیز ٹیلنٹ ہے۔ اگر آپ میں صلاحیت ہے تب ہی آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ ایک آدھ چانس ملنے کے بعد آپ خود ایکسپوز ہوکر الگ ہوجاؤ گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوشرت بھروچا نے بالی ووڈ کہا کہ
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :