بھارت؛ بوائے فرینڈ کے ساتھ دہلی جانے والی لڑکی کو والد نے غصے میں بدترین سزا دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
BIHAR:
بھارتی ریاست بہار کے علاقے سماسٹپور میں سابق فوجی نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو بوائے فرینڈ کے ساتھ دہلی جانے پر غصے میں آکر قتل کردیا جبکہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ سماسٹپور میں مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے شہری کو گرفتار کرلیا ہے جو بھارتی فوج کا سابق اہلکار ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر 25 سالہ ساکشی کو 7 اپریل کو قتل کیا گیا اور ان کی لاش گزشتہ روز ان کے گھر میں واش روم سے برآمد ہوئی جس سے لاک کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزم مکیش سنگھ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد ان کے دوست کو بھی مارنے کے لیے گیا تھا لیکن وہ گاؤں میں موجود نہیں تھا۔
ساکشی کے ماموں وپن کمار نے بتایا کہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ 4 مارچ کو دہلی گئی تھی جس کا تعلق دوسری ذات سے تھا اور ان کا پڑوسی تھا اور دونوں ایک ساتھ کالج جاتے تھے۔
مکیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ایک ہفتہ قبل انہوں نے لڑکی کو وفاقی دارالحکومت سے واپس سماسٹپور واپس آنے کے لیے قائل کیا تھا تاہم چند روز وہ غائب ہوگئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کی والدہ نے پوچھا تو ملزم نے ان کو بتایا کہ وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں تاہم انہیں شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو آگاہ کردیا۔
بعد ازاں پولیس نے تفتیش شروع کی اور ان کے گھر کے واش روم سے بدبو کی نشان دہی کی اور پھر لاش برآمد کرلی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے جب مکیش سنگھ سے سوالات کیے تو انہوں نے جرم کے ارتکاب کا اعتراف کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔