قومی اسمبلی: نہری معاملہ، قرارداد ایجنڈے سے نکالنے پر احتجاج کیا، شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نمائندہ خصوصی+خبر نگار)پی ٹی آئی نے دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے معاملے پراپنی قرارداد قومی اسمبلی کے سپیکر آفس میں جمع کرادی۔ جبکہ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے سے متعلق قرارداد ایجنڈے سے نکالنے کیخلاف احتجاج کیا ، ترجمان شازیہ مری نے کہا قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے اس بات پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ دوسری طرف وزیر داخلہ محسن نقوی کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 50 ہزار افراد کے پاسپورٹس بلیک لسٹ کر دیئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی طرف سے قرارداد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، زرتاج گل وزیر، علی محمد خان، مجاہد خان اور دیگر اراکین کے دستخطوں سے جمع کرائی گئی۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس اجلاس پندرہ روز میں طلب کیا جائے تاکہ کینال کی تعمیر کے حوالے سے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔کینال کی تعمیر کے حوالے سے سندھ کے تحفظات کو دور کیا جائے۔چولستان کینال منصوبے پر مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری تک کام روکا جائے،ارسا اتھارٹی کی جانب سے جاری پانی کی دستیابی سرٹیفیکیٹ پر غیر جانبدار آڈٹ کرایا جائے۔ کوٹڑی بیراج ڈان سٹریم سے دس ملین ایم اے ایف پانی نہ جانے تک اس منصوبے پر عملدرآمد روکا جائے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے اس بات پر احتجاج ریکارڈ کروایا کہ ان کی نہروں کے حوالے سے قرارداد کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اپنے بیان میں کہا ہے کہ 7 اپریل کو دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف قرارداد جمع کروائی تھی،مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی جبکہ تحریک انصاف نے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران عمران نیازی نے دریائے سندھ پر دو نہروں کی منظوری دی تھی جسکی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے شدید مخالفت کی، اگر آج تحریک انصاف قرارداد لا کر اپنی پچھلی غلطی کا ازالہ بھرنا چاہتی ہے، تو آئے ہماری قرارداد کی حمایت کرے۔ ہمیں دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف اکٹھے کھڑا ہونا ہوگا ۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ وزارت داخلہ نے غیر قانونی طور پر ایران اور یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 50 ہزار افراد کے پاسپورٹس بلیک لسٹ کردیے۔ پاسپورٹس بلیک لسٹ کرنے کی سفارش ایف آئی اے بلوچستان نے کی تھی، محسن نقوی نے کہا کہ متعلقہ افراد بلیک لسٹ سے ہٹانے کے لیے ڈی جی پاسپورٹ کے پاس مروجہ طریقہ کار کے مطابق اپیل کر سکتے ہیں ۔ وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ سال 2024میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے 13ہزار 722انکوائریاں رجسٹرڈ کیں، آن لائن فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف 832مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں ایک ہزار 212افراد گرفتار اور 17مقدمات کے حتمی فیصلے کیے گئے ہیں۔ ملوث افراد سے 65کروڑ سے زائد کی رقم برآمد کی گئی۔ اجلاس آج صبح 11بجے تک ملتوی کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز قومی اسمبلی دریائے سندھ پیپلز پارٹی کی تعمیر کے بلیک لسٹ
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔