Daily Mumtaz:
2026-07-24@15:29:43 GMT

ٹیرف کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے ، چینی صدر

اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT

ٹیرف کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے ، چینی صدر

ٹیرف کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے ، چینی صدر

بیجنگ:جمعہ کے روز چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں چین کے دورے پر آئے ہوئے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات کی ہے۔ شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اس سال چین اور اسپین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی 20 ویں سالگرہ ہے ، اور چین اسپین کے ساتھ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے جو زیادہ اسٹریٹجک اور ترقیاتی توانائی سے بھرپور ہو۔ چین اور اسپین کو منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں، چین اور یورپی یونین کو شراکت داروں کے تعلقات اور کھلے تعاون پر عمل کرنا چاہئے۔

.

شی جن پھنگ نے زور دے کر کہا کہ ٹیرف کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے اور دنیا کے خلاف جاکر خود کو الگ تھلگ کر لیا جائے گا۔ 70 سال سے زائد عرصے سے چین کی ترقی کا انحصار کسی کے تحفے کے بجائے ہمیشہ خود انحصاری اور سخت محنت پر رہا ہے، کسی بھی بلاجواز جبر سے ڈرنا تو دور کی بات ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیرونی ماحول کیسے تبدیل ہوتا ہے ، چین خود اعتمادی کو مضبوط کرے گا ، اپنے عزم کو برقرار رکھے گا ، اور اپنے معاملات کو اچھی طرح سے چلانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ چین اور یورپی یونین دونوں دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں اور اقتصادی گلوبلائزیشن اور آزاد تجارت کے بھرپورحامی ہیں۔ چین اور یورپی یونین کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے ، معاشی عالمگیریت اور بین الاقوامی تجارتی ماحول کا مشترکہ تحفظ کرنا چاہئے ، اور یکطرفہ غنڈہ گردی کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا چاہئے ، نہ صرف اپنے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ، بلکہ بین الاقوامی عدل و انصاف کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو برقرار رکھنا چاہئے۔سانچیز نے کہا کہ یورپی یونین کھلی اور آزاد تجارت پر عمل پیرا ہے، کثیرالجہتی کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے، اور یکطرفہ محصولات کی مخالفت کرتی ہے. اسپین اور یورپی یونین بین الاقوامی تجارتی نظام کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی اور غربت جیسے چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لئے چین کے ساتھ مواصلات اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہیں۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور یورپی یونین بین الاقوامی کرنا چاہئے کو برقرار چین اور

پڑھیں:

کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔

صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام