میرپور: تمباکو مصنوعات کی رات کے وقت ترسیل پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
میرپور (نیوز ڈیسک)ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میرپور یاسر ریاض نے ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو ایکسائز سرکل میر پور کی طرف سے لکھے گے مکتوب پر عملدرآمد کرتے ہوئے دفعہ 144کے تحت ضلع میر پور سے کوئی بھی شخص /اشخاص،فیکٹری مالک،ڈرائیور بعداز مغرب اور طلوع آفتاب سے پہلے تمباکو پروڈکٹس ضلع میرپور سے بیرون اضلاع ترسیل نہیں کرسکے گا۔ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریوینیو نے اپنے مکتوب میں نوٹس میں لایا کہ ضلع میرپور میں قائم سگریٹ فیکٹری مالکان تمبا کو پروڈکٹس ضلع کے مختلف راستوں سے علاقہ پنجاب منتقل کرتے ہیں جبکہ اکثر اوقات تمبا کو پروڈکٹس کی ترسیل رات کے اوقات میں خفیہ راستوں کے ذریعے سے کرتے ہیں، جس سے حکومت آزاد کشمیر کو ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مالی نقصان ہوتا ہے۔ بدیں وجہ رات کے اوقات میں تمبا کو پروڈکٹ کی ترسیل / بیرون ضلع نقل و حمل پر پابندی عائد کی جانی ضروری ہے۔ وجوہات معقول ہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میر پور یا سر ریاض نے اپنے اختیارات کی رو سے زیر دفعہ 144 ض ف کے تحت پابندی لگا دی ہے کہ کوئی بھی شخص اشخاص/ مالک فیکٹری / ڈرائیور بعد از مغرب تا طلوع آفتاب تمبا کو پروڈکٹس ضلع میر پور سے بیرون ضلع منتقل / ترسیل نہیں کر دیگا۔ اگر کوئی شخص اشخاص/ فیکٹری مالک / ڈرائیور ایسا عمل / فعل کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف آزاد جموں و کشمیر پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت کاروائی ضابطہ عمل میں لائی جائے گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میر پور تمبا کو کے تحت
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے