خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے پبی میں محکمہ ایکسائز کے موبائل اسکواڈ پر نامعلوم افراد مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 اہلکاروں سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

محکمہ ایکسائز کے مطابق ہفتے کی رات 2 بجے ایکسائز اہلکاروں نے مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، گاڑی کے نہ رکنے پر ایکسائز اہلکاروں نے تعاقب کیا گیا جس دوران مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ، نماز کے لیے نہ اٹھنے پر بھائی نے فائرنگ کرکے بہن کو قتل کردیا

مسلح افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل افتخار اور کانسٹیبل مجاہد سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں زخمی سب انسپکٹر فاروق کا ذاتی ڈرائیور بھی شامل ہے۔

حملے میں سب انسپکٹر فاروق باچا زخمی ہوئے ہیں، انہیں 5 گولیاں لگیں اس کے باوجود انہوں نے خود گاڑی چلا کرپشاور اسپتال پہنچائی، جسے ایل آر ایچ پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں پشتو گلوکارہ قتل: خیبر پختونخوا میں اداکارائیں اور گلوکارائیں نشانے پر کیوں؟

 محکمہ ایکسائز کے مطابق پولیس لائنز  پشاور میں محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے، نماز جنازہ میں آئی جی کے پی ذوالفقارحمید، ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم، سی سی پی او قاسم خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایکسائز اہلکار پبی پشاور پولیس خیبرپختونخوا فائرنگ نوشہرہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسائز اہلکار پشاور پولیس خیبرپختونخوا فائرنگ محکمہ ایکسائز کے مسلح افراد

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی