حکومت کسی اصول پر کمپرؤمائز نہیں کرے گی،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
لندن: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کسی اصول پر کمپرؤمائز نہیں کرے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگر کسی کوسزا ہوئی ہےتو ہم کیا کرسکتےہیں، جن لوگوں نے نو مئی کےواقعات کیے وہ اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نومئی واقعات میں شواہد کی بنیاد پرسزاؤں کا عمل جاری ہے، کسی نےسیاست کرنی ہے تو پاکستان جاکرکرے، حکومت کسی اصول پر کمپرؤمائزنہیں کرے گی، لاکھوں ڈالر دے کر پاکستانی اداروں کو بدنام کرنا قابل مذمت ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہے، روٹین کے مطابق چیک اپ ہو گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران میں پیش آنے والا واقع بہت افسوس ناک ہے، میں ایران میں تمام لوگوں سے رابطے میں ہوں، ہمارا سفارتخانہ لوگوں سے مکمل تعاون کر رہا ہے، جنہوں نے بھی یہ کیا ہے ایرانی حکومت انہیں مکمل سزا دے گی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز کو مکمل عزت دی جائے گی۔ پاکستان میں بہت بڑا کنونشن ہو رہا ہے، منگل کو اس میں شرکت کریں گے اور خصوصی اعلانات کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی سنگل ڈیجیٹ میں آچکی ہے، پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے، اسلامی قوانین کےمطابق بھی فتنےکےساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوسکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔