اے پی سی سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے مختلف مسائل سے متعلق نو مطالبات پیش کئے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے بلوچستان کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے مستونگ میں لکپاس کے مقام پر جاری دھرنا گاہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان تحریک انصاف، مجلس وحدت مسلمین، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، بی این پی عوامی، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی، پشتون تحفظ موومنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر طلباء اور تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ بی این پی کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں 9 قراردادیں منظور کی گئیں۔ بی این پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں دوران لانگ مارچ و دھرنا بی این پی کے کارکنوں اور بی وائی سی اکابرین و کارکنوں کو ہراساں کرنے، گرفتار کرنے اور وڈھ میں پرامن احتجاج کرنے کے دوران کارکنان عنایت اللہ لہڑی کی فورس کے ہاتھوں موت اور کارکنوں کو زخمی کرنے کی مذمت اور ملوث اہلکاروں کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
 
ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں بشمول عمران خان، علی وزیر، ڈاکٹر یاسمین سمیت پی ٹی آئی، بی این پی اور سندھ بھر کینال تحریک میں گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ تیسرا مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں جاری وفاق کی جارحانہ پالیسی، فوجی آپریشن، سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے، تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریاں، خوف کی فضاء قائم کرنے کیلئے طالب علم، دانشور، اساتذہ اور دیگر طبقات کیخلاف فورتھ شیڈول جیسے نوآبادیاتی پالیسیوں کو فورا ختم کیا جائے۔ چوتھے مطالبے میں کہا گیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے متعلق جاری قابضانہ رحجانات قانون سازی اور معاہدات بشمول مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025 کی فوری تنسیخ پی پی ایل معاہدہ کا خاتمہ، ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے 50 فیصد حصہ داری کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ سرحدی علاقوں قومی شاہراہوں، ایف سی، کوسٹ گارڈ اور وفاقی اداروں کی تذلیل، لوٹ مار اور کرپشن کا ذریعہ بننے والی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
 
چھٹا مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ اے پی سی ڈیورنڈ لائن چمن میں دو سال سے جاری دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ چمن سے جیونی تفتان سے منداور ماشکیل سے پنجگور تک تجارت پر پابندیوں کی مذمت اور سرحدی تجارت کو بحال کیا جائے۔ ساتواں مطالبہ تھا کہ اے پی سی بلوچستان کے مسئلے کے لئے قومی سطح پر ڈائلاگ کے آغاز اور 1948 کے الحاق کے دستاویزات اور بالترتیب آئین تحفظات پر عملدرآمد کو یقینی بنائی جائے۔ آٹھویں مطالبے میں کہا گیا کہ اے پی سی ذمہ داروں، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور کاروباری حضرات کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا ازالہ کرنے کا فوری اقدام کرے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ افغان کڈوال کے ساتھ جاری غیر انسانی غیر اسلامی طرز و طریقہ کار ختم کیا جائے اور نیشنلی اور انٹر نینشنلی، بین اقوامی رفیوجیز کے تحت طریقہ کار اپنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان کے کارکنوں کو کہا گیا کہ بی این پی کیا جائے اے پی سی کیا گیا

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ