ٹام اینڈ جیری کا اے آئی ورژن: نئی ٹیکنالوجی سے کارٹون کی دنیا میں تہلکہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
ٹام اینڈ جیری کا کارٹون سو فیصد اے آئی کی تخلیق اور صرف ٹیکسٹ پرامپٹ کے ذریعے بنایا گیا
نیویارک (شوبز ڈیسک) حال ہی میں ٹام اینڈ جیری کا مصنوعی ذہانت(اے آئی)کے ذریعے بنایا گیا نیا ورژن سامنے آیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال رہا ہے۔
اسٹین فورڈ اور NVIDIA کے مشترکہ پروجیکٹ TTT-MLP نے صرف ٹیکسٹ پرامپٹ کی بنیاد پر بنائی گئی اس مختصر ویڈیو میں کارٹون کی اصل روح کو زندہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ و
یڈیو میں ٹام کو نیویارک کے ایک دفتر میں جیری کے ساتھ اسی پرانی چھیڑ چھاڑ کرتے دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ کچھ مناظر بے ربط ضرور ہیں، لیکن اینی میشن کا معیار اور بیک گرانڈ میوزک اتنا شاندار ہے کہ یہ اصل سیریز کا ہی حصہ محسوس ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مصنوعی ذہانت روایتی اینی میشن کی جگہ لے سکتی ہے؟ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو لے کر کئی دلچسپ تبصرے سامنے آئے ہیں۔
کچھ صارفین نے اے آئی کی اس کامیابی کو سراہا ہے، جبکہ بہت سے لوگ اب بھی اصل کارٹون بنانے والوں کی محنت کو فوقیت دے رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا اصل ورژن کی بات ہی کچھ اور تھی، اس میں وہ جادو تھا جو اے آئی نہیں لا سکتی۔ یہ ترقی اینی میٹرز اور فنکاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
کیا آنے والے وقت میں اے آئی روایتی اینی میشن فنکاروں کی جگہ لے لے گی؟ یا پھر یہ محض ایک نیا ٹول ثابت ہوگی جو فنکاروں کے لیے کام کو آسان بنائے گی؟ فی الحال تو یہ بحث جاری ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ ابھی جاری رہے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم جلد ہی ٹام اینڈ جیری کی مکمل سیزن اے آئی کے ذریعے بنے ہوئے دیکھ پائیں گے؟ یا پھر شائقین اصل فنکاروں کی محنت کو ہی ترجیح دیں گے؟
وقت ہی بتائے گا کہ یہ نئی ٹیکنالوجی اینی میشن کی دنیا میں کس طرح کے انقلاب لے کر آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹام اینڈ جیری اینی میشن اے آئی
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر