جنین میں قابض صیہونی فوج نے 36 سو مکانات کو تباہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
میڈیا کمیٹی نے بتایا کہ کیمپ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 21,000 تک پہنچ گئی ہے، جن کو پورے جنین گورنری میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قابض صیہونی فوج نے جنین پر اپنی جارحیت کے دوران اب تک 3600 مکانات کو تباہ کر دیا۔ قابض اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شمالی شہر جنین اور اس کے کیمپ پر مسلسل 85 ویں روز بھی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس دوران قابض فوج نے غزہ کی پٹی کی طرح بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب جاری رکھا ہوا ہے۔ جنین کیمپ میں میڈیا کمیٹی نے کہا ہے کہ قابض فوج نے جنین اور اس کے کیمپ میں اپنی جارحیت کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز پر چھاپے مار ے جا رہے ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ روز اس نے جنین سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی اور رجسٹریشن وارڈز پر چھاپہ مارا۔ قابض فوج منظم طریقے سے گھروں کو تباہ کرنے اور سڑکوں کو بلڈوز کرنے کی اپنی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کی تلاشی لینے اور انہیں فوجی چوکیوں میں تبدیل کرنے کی تیاری کے لیے متعدد خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ جینن کیمپ میں تقریباً 600 مکانات تباہ ہوئے جبکہ تقریباً 3000 مکانات ناقابل رہائش ہو گئے۔ کمیٹی نے بتایا کہ کیمپ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 21,000 تک پہنچ گئی ہے، جن کو پورے جنین گورنری میں تقسیم کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔