رجب بٹ ایک پوڈکاسٹ کا کتنا معاوضہ لیتے ہیں؟ جان کر ہوش اُڑ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کسی بھی پوڈ کاسٹ میں انٹرویو دینے کا بھاری معاوضہ لیتے ہیں جسے جان کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے۔
اس بات کا انکشاف رجب بٹ نے پوڈکاسٹ میں انٹرویو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا تھا۔
جب رجب بٹ سے ان کی آمدنی پوچھی گئی تو ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر نے جواب دیا کہ اس کا اندازہ صرف اس بات لگائیں کہ میں ایک پوڈکاسٹ میں آنے کے 15 لاکھ روپے لیتا ہوں۔
رجب بٹ نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام بڑی تعداد میں میرا انٹرویو دیکھتے ہیں اور ملینز ویوز ملتے ہیں جس سے پوڈ کاسٹ میزبان کی بھی خوب کمائی ہوتی ہے۔
رجب بٹ نے بتایا کہ اس کے علاوہ روزانہ 3 سے 4 پروموشنل ویڈیوز ڈالتا ہوں جس سے میں 30 سے 40 لاکھ روپے کمالیتا ہوں۔
یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا ایسی جگہ ہے جہاں جتنا چاہو اتنا کماؤ۔
رجب بٹ نے کہا کہ البتہ میں ٹک ٹاک سے جتنا کماتا ہوں اُسے غریبوں میں تقسیم کردیتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔